اصحاب احمد (جلد 10) — Page 109
109 حاجی صاحب کی طرف سے نذرانہ پیش کیا اور دعا کی درخواست کی اس پر حضور نے فرمایا کہ چلو ہم حاجی صاحب کو دیکھتے ہیں اور وہیں ان کے لئے دعا کر دینگے۔چنانچہ حضور مع خدام حاجی صاحب کے کمرہ میں تشریف لے آئے۔اور آپ کی عیادت کی اور پھر ہاتھ اٹھا کر خدام سمیت دعا فرمائی۔اور تھوڑی دیر کے بعد حضور واپس تشریف لے گئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہر حکم کی تعمیل تو اپنے ایمان کا جز وسمجھتے اور لبیک کہتے ہوئے اس کو بغیر کسی توقف کے کام کاج چھوڑ کر بھی سرانجام دیتے۔اور یہی صورت مرکز سے آمدہ احکام کے متعلق ہوتی۔آپ کو تعمیل حکم کے بغیر چین نہ آتا تھا۔چوہدری نور احمد صاحب سکنہ سڑر وعد پنشنرخزانچی صدرانجمن احمدیہ) نے بتایا کہ ایک روز حضور نے مجھے بلوایا چنانچہ میں مسجد مبارک سے ملحقہ کمرہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، حضرت میر محمد اسحاق صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی و دیگر ممبران صدرا انجمن احمد یہ بھی موجود تھے۔حضور نے مجھے سڑوعہ سے آمدہ ایک خط دیا جس میں تحریر تھا کہ جماعت سروعہ کے اڑتیس افراد مرتد ہو گئے ہیں۔اور ان کے نام بھی تحریر تھے۔اس کے متعلق حضور نے میری رائے طلب کی۔میں نے عرض کیا کہ دراصل یہ افراد احمدی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ہماری تنظیم میں شامل تھے۔البتہ دوسرے لوگوں کا ان کے متعلق خیال تھا کہ یہ طاعون کے زمانہ سے جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں۔کوئی با اثر احمدی مبلغ بھجوانے سے حقیقت معلوم ہو سکے گی۔اس پر حضور نے حضرت میر محمد الحق صاحب کو اور ان کے ہمراہ مجھے بھی بھجوانا چاہا لیکن پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی اس تجویز کو پسند فرمایا۔کہ حاجی غلام احمد صاحب کو اس امر کی تحقیق کے لئے مقرر کیا جائے۔چنانچہ حاجی صاحب کو تار بھجوادی کہ سڑ وعہ جا کر اس واقعہ کی پوری تحقیق کر کے جلد اطلاع دیں۔تارا نہیں شام کو ملا۔آپ اسی وقت گھوڑے پر سوار ہو کر سر وعہ چلے گئے جو کہ چھ میل کے فاصلہ پر ہے اور رات کو وہاں تحقیقات کی۔خط کے مندرجات غلط اور مبنی بر دروغ نکلے۔جس کی اطلاع فورا حضور کی خدمت میں آپ نے بھجوا دی۔چنانچہ اخبارات میں بھی اس کی تردید کر دی گئی۔مرکز سے بزرگان و علماء کی آپ کے پاس آمد و رفت رہتی تھی۔چنانچہ ۱۹۰۹ء میں خلافت اولی میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ جمعیت حضرت میر محمد الحق صاحب اس علاقہ میں تشریف لے گئے۔پھگواڑہ کا ریل گاڑی میں سفر کیا۔مشہور یکہ بان میاں شیر محمد صاحب مرحوم جو بہت مخلص تھے آپ کو اپنے یکہ میں پہلے نواں شہر لائے پھر کاٹھ گڑھ لے گئے۔وہاں آپ نے محترم مولوی عبد السلام صاحب