اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 103 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 103

103 خاں صاحب اور حاجی رحمت اللہ صاحب سکنہ راہوں مقرر کئے کہ یہ کمیٹی بکثرت رائے تابع منظوری خلیفہ وقت کام کریگی۔آپ دبلے پتلے اور جسمانی طور پر کمزور تھے لیکن حد درجہ محنتی تھے۔۱۹۳۹ء میں جو بلی فنڈ کی فراہمی کے لئے آپ نے اضلاع جالندھر و ہوشیار پور کا پیادہ چکر لگا کر ہزاروں روپے وصول کئے۔لیکن موسم گرما میں لمبے سفر کو آپ کا کمزور جسم برداشت نہ کر سکا اور آپ مرض دق (ٹی بی) کا شکار ہو گئے۔لیکن علاج معالجہ سے افاقہ نہ ہونے بلکہ مرض کے شدت اختیار کرنے پر آپ مئی ۱۹۴۰ء میں اوڑ کے سرکاری ہسپتال میں داخل ہوئے لیکن وہاں علاج کا مکمل انتظام نہ تھا۔اس لئے مکرم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ (حال امیر جماعت راولپنڈی) کے ذریعہ امرت سر کے سول ہسپتال میں داخل ہوئے۔محترم ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب احمدی (حال ایکس رے انچارج میوہسپتال لاہور ) کی وجہ سے بہت سہولت رہی۔چند ماہ میں روبصحت ہونے پر آپ کو سر گو جرمل سینیوریم میں بھیج دیا گیا۔اس طرح ہر دو جگہ قریباً نصف سال قیام کر کے صحت یاب ہو کر آپ جلسہ سالانہ پر قادیان آئے۔اور سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات بھی کی۔اور پھر وطن پہنچ کر حسب معمول کام کاج میں مشغول ہو گئے۔بڑا بچہ دسویں میں کامیاب نہ ہوا۔اسے مئی ۱۹۴۱ء میں قادیان داخل کرانے گئے۔گرمیوں میں مشقت کے باعث پھر ٹی بی کا حملہ ہو گیا۔اور آپ امرت سر کے ہسپتال اور سینیٹوریم میں نصف سال داخل رہے۔اور جلسہ سالانہ پر قادیان آئے لیکن مارچ ۱۹۴۲ء میں انتہائی خطرناک کار بنکل گردن کی پشت پر نکل آیا اس لئے امرت سر ہسپتال میں اپریشن کے لئے داخل ہوئے۔چونکہ اب بہت نحیف ہو گئے تھے اس لئے ٹی بی کے اثرات ظاہر ہونے پر ٹی بی وارڈ میں اور پھر سینیٹوریم میں منتقل ہوئے۔ڈاکٹروں نے یہ سمجھ کر کہ اب علاج بے سود ہے نومبر ہندوستان خصوصاً پنجاب میں تقسیم شرعی کا رواج نہیں تھا بلکہ اس کی سخت مخالفت کی جاتی تھی۔حاجی صاحب نے شریعت پر عمل پیرا ہونے کے لئے ۱۴/۹/۱۱ کو لکھا کہ میں حج پر جا رہا ہوں میری اراضی کی تقسیم بموجب شریعت اسلام ہو اس پر حضرت خلیفہ اول نے تحریر فرمایا ” مکرم مولوی محمد علی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وصیت پر توجہ فرمائیں۔نورالدین