اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 63 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 63

63 براہ راست اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں رپورٹ بھیج دی۔اکاؤنٹنٹ جنرل ان دنوں ایک انگریز مسٹر ہڈلف صاحب ہوا کرتے تھے ان کو اس بات سے کوئی سرو کار نہ تھی کہ کون ہندو ہوتا ہے اور مسلمان۔انہوں نے کاغذات میں میرا نام تبدیل کر کے عبدالرحیم درج کرا دیا۔چنانچہ عبدالرحیم کے نام سے تنخواہ برآمد ہونے لگی ادھر ناظم صاحب نے اپنے دفتر میں حکم دے دیا کہ سروس بک میں میرا نام درج کر دیا جائے ایک ابتلاء اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستگیری:۔چونگی خانہ کے ایک کمرہ میں میں رہتا تھا سر دیوں کے دن تھے۔ایک دفعہ میں بیمار ہو گیا۔سخت تیز بخار تھا۔میں اکیلا پڑا گھبرا گیا۔دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ مسلمان ہو کر تم نے کیا لیا؟ بیمار پڑے ہو پاس کوئی پانی دینے والا بھی نہیں۔بہن بھائی۔والدہ بیوی۔بچے سب ہی ہیں۔لیکن کوئی تمہارے منہ نہیں لگتا۔کیا ہندو رہ کر تم خدا کی عبادت نہیں کر سکتے تھے۔بت پوجابے شک نہ کرتے مگر رام اور رحیم میں تو کوئی فرق نہیں۔وہ تو ایک ہی ذات کے دو نام ہیں ہندورہ کر رام رام جیتے تو کیا تھا غرض اس قسم کے خیالات دماغ میں چکر لگانے لگے لیکن میرے رب نے گرتا دیکھ کر پھر مجھ کو سنبھالا اور میرے دل میں یکلخت تحریک پیدا ہوئی کہ یہ سب شیطانی وساوس ہیں۔تم کو دعا اور استغفار کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے لحاف میں ہی تیم کر کے نماز پڑھنی شروع کر دی اور دعا کی۔الہی ! اگر چہ میرے عزیز واقارب حتی کہ ماں نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے لیکن حضور تو ماں باپ سے بھی بڑھکر ہمدرد اور خیر خواہ ہیں تیری موجودگی میں تجھ سے بڑھکر اور میرا کون ہمدرد ہوسکتا ہے اگر عزیز واقارب نے چھوڑ دیا ہے تو تو موجود ہے تو میری دستگیری فرما۔اور اس دکھ کو جو میری روح کو کھا رہا ہے نجات دے نماز میں میں خدا تعالیٰ کے حضور خوب رویا۔اسی دوران میں مجھے ایسا پسینہ آیا کہ میرا بخار خدا تعالیٰ کے فضل سے اتر گیا۔اور میرے دل کو غیر معمولی تسکین اور راحت ہونی شروع ہوگئی۔ہجرت بسوئے قادیان دار الامان: ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا۔ایک دن مجھ کو خیال آیا کہ تم مسلمان تو ہو گئے ہولیکن اسلام کی تعلیم تو حاصل نہیں کی۔میرے دل میں تحریک ہوئی کہ میں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھوں مگر قصبہ بنوڑ میں ایسا ہونا ممن نہ تھا۔میں نے دعا شروع کر دی ہوئی تھی۔آخر خدا تعالیٰ نے میرے لئے یہ سامان بھی پیدا کر دیا کہ رسالہ تفخیذ الاذہان میرے نام آیا کرتا تھا۔حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) اس کے ایڈیٹر تھے۔ایک دفعہ میں نے اس میں اشتہار دیکھا کہ رسالہ تحیۃ الاذہان کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو حساب کتاب رکھ سکتا ہو اور کسی قدر مضمون و غیرہ لکھنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔میرے