اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 58 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 58

58 خدمت میں نذر پیش کی وہ خوش ہوئے دعا دی۔ہمارے قصبہ کے لوگوں کے حالات پوچھے یہاں کے پروہت شجرہ نسب محفوظ رکھنے میں کمال رکھتے ہیں۔بڑی بڑی بہیاں بنائی ہوئی ہیں اور صدیوں سے نسلاً بعد نسل اپنے جمانوں کا شجرہ لکھتے آتے ہیں۔طریق یہ ہے کہ جب کوئی عجمان یا ترایا کسی فوت شدہ رشتہ دار کے پھول چڑھانے کے لئے ہر دوار آتا ہے اس سے اس کے خاندان اور قصبہ کے دوسرے جان پہچان والے لوگوں کے ہاں کی پیدائش اور اموات کے حالات دریافت کر کے بہی میں درج کرتے رہتے ہیں اس طرح پشتہا پشت کے جمانوں کا ٹھیک ٹھیک شجرہ نسب محفوظ چلا آتا ہے پروہت جی نے ہمارے خاندان کا شجرہ مجھ کو سنایا اور مجھ سے پوچھ کر بعض ابزادیاں کیں۔سب سے بڑی دقت مجھ کو وہاں نماز پڑھنے کے لئے اُٹھانی پڑی۔ہندوؤں کے سامنے میں نماز نہ پڑھ سکتا تھا۔میں تین چار کوس دور نکل جاتا اور جوالا پور کے پاس جنگل میں چھپ کر نمازیں پڑھتا۔ہردوار کی سیر کا مجھے کو خوب موقع مل گیا گر و کل کانگڑی بھی گیا جہاں آریوں کا مذہبی سکول ہے اور گنگا جی کا اشنان بھی کیا۔اور خوب کیا گنگا جی میں اتنی کرامت کہاں تھی کہ وہ اسلامی رنگ جو حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے چڑھ چکا تھا۔دھل جاتا۔جتنا اشنان کیا اتنا ہی وہ اور چمکا اور روشن ہوا اور ہندو مذہب سے بیزاری بڑھتی گئی۔گنگا کے بیچ میں مندر ہے اس کے قریب ہی گنگا کے پانی کی سطح تک سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ان پوڑیوں میں سے ھر کی پوڑی بھی مشہور ہے ان سیٹرھیوں سے اتر کر مرد عورتیں مندر کے گر داشنان کرتی ہیں۔گنگا کے اس مقام کو زیادہ متبرک سمجھا جاتا ہے عورتیں پتلا کپڑا یا چادر لپیٹ کر نہاتی ہیں پانی سے بھیگے ہوئے کپڑوں میں عورتوں کا تمام جسم عریاں نظر آتا ہے۔صبح جب میں گنگا کے کنارہ پر جاتا تو عجیب سماں ہوتا علی الصبح سورج کی کرنیں پانی پر پڑتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گنگا مائی اپنے پتروں کی عقل پر ہنستی ہے کہ مخدوم پجاری بنتا ہے اور خادم پچتا ہے چند روز ہر دوار میں ٹھہرا۔پھر وطن لوٹ آیا۔اور سیدھا منشی عبدالوہاب صاحب کے گھر گیا۔ان کو سارا ماجرا کہہ سنایا ان کی موحدانہ باتیں سنیں کلفت دور ہوئی اور گھر گیا۔سب خوش ہوئے اور ہردوار کی باتیں پوچھنے لگے۔انہوں نے شکر کیا کہ شدھ ہو آیا میں نے بھی شکر کیا کہ واقعی شدھ ہو آیا ہوں۔اگر کوئی رگ شرک کی ابھی باقی تھی تو وہ بھی کٹ گئی اور ہندو دھرم سے بالکل بیزاری ہوگئی۔اسلام کا اعلان :۔سیدنا حضرت مسیح موعود کا وصال ہوگیا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح اول کی خلافت کے ابتدائی