اصحاب احمد (جلد 10) — Page 56
56 سمجھانے لگے کہ اگر تم نماز نہیں چھوڑ سکتے تو بے شک پڑھو ہم تم کو منع نہیں کرتے لیکن مسجد میں جاکر نماز پڑھنے سے احتیاط کرو۔اور اسلام کا اظہار نہ کرو میری والدہ صاحبہ کے ذریعہ بھی مجھ پر وہ یہی زور ڈالتے۔وہ رو رو کر نصیحت کرتیں کہ بیٹا تم اپنے گھر میں جو مرضی ہے کرو مگر باہر نمازیں پڑھکر ہمیں بدنام نہ کرو میری بیوی کو بھی یہ لوگ ورغلاتے۔اور کہتے کہ دیکھو تم کشن لعل کو دھرم پر قائم رکھ سکتی ہو۔اگر تم نے کمزوری دکھائی اور اس کا ساتھ دیا تو وہ ہاتھ سے نکل جائے گا غرض میں نے ان سب کے زور دینے پر منظور کر لیا کہ میں اسلام کا اعلانیہ اظہار نہیں کروں گا۔ادھر پنڈتوں نے میری خاطر باقاعدہ کتھا کرنے کا انتظام کیا۔ہماری برادری کے بزرگ بڑے اہتمام کے ساتھ مجھ کو بلا کر لے جاتے حتی کہ انہوں نے مجھ کو اپنی سبھا کا سیکرٹری بھی بنا دیا۔اور میری کڑی نگرانی کرنے لگے۔تاکہ میری مصاحبت مسلمانوں کے ساتھ نہ ہو۔غرض میں ایک آفت میں پڑ گیا۔ہر دوار کی یا ترا ہندو بھی تو ہوتے ہی ہیں۔پوتر اپوتر کا ان کو بڑا خیال ہوتا ہے چونکہ میں مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا منشی صاحب کے ساتھ مل کر کھانا بھی کئی بار کھایا تھا اس لئے ان کو خیال گذرا کہ اس کو گنگا جی کا اشنان کروانا چاہئے تا کہ شدھ ہو جائے۔چنانچہ ایک دن موقع پا کر انہوں نے مجھ کو کہا کہ تم ہر دوار جا کر اشنان کر آؤ وہاں کئی دھر ما تمارہتے ہیں۔ان سے مل کر تم کو فائدہ ہوگا میں نے کہا بہت اچھا موقع نکال کر اشنان کر آؤں گا۔اس خیال سے کہ شاید میں کسی بہانہ سے اس تجویز کوٹلا نہ دوں انہوں نے میرے لئے خرچ بھی مہیا کر دیا اور مصر ہوئے کہ میں جلد چلا جاؤں۔میں سخت گھبرایا۔منشی صاحب سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے۔میں مسلمان ہوں۔ہر دوار کیسے جاؤں ؟ انہوں نے کہ کیا حرج ہے تم اشنان کر آؤ گنگا بھی دوسرے دریاؤں کی طرح ایک دریا ہے اس میں نہانے سے تمہارا اسلام تو نہ دھل جائے گا۔چنانچہ میں ان کے مشورہ کے مطابق ہر دوار کو روانہ ہو گیا۔ہمارے شہر کے برہمنوں نے وہاں کے جان پہچان والے بعض برہمنوں کے نام چٹھیاں لکھ دیں کہ کشن لعل آ رہا ہے۔یہ دھرم سے برگشتہ ہے اسے سمجھاؤ۔ہردوار جاتے ہوئے راستہ میں میری مصاحبت لدھیانہ کے بعض ہندؤوں سے ہوگئی۔وہ بھی ہر دوار یا ترا کے لئے جارہے تھے لکسر کے سٹیشن پر گاڑی بدلنا تھی صبح کی نماز کا وقت تھا۔ہماری گاڑی کے آنے میں تھوڑی دیر تھی مجھے کونماز پڑھنے کی فکر ہوئی لیکن اپنے ہم سفروں کے سامنے جو مجھ کو ہند و خیال کرتے تھے میں نماز نہیں پڑھ سکتا تھا۔میں اپنا سامان ان کے سپر د کر کے خود اسٹیشن کے باہر چلا گیا تا کہ نماز پڑھوں پانی کی تلاش میں