اصحاب احمد (جلد 10) — Page 55
55 دیکھ لیا تو وہ دوڑا دوڑا بازار میں آیا اور شور مچادیا کہ میں نے کشن لعل داروغہ چونگی کومسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا ہے۔لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا۔اتفاق سے اس وقت ایک برہمن جو ہماری برادری کا بزرگ تھا۔اور مالدار بھی تھا۔قصبہ میں اس کا بڑا اثر ورسوخ تھا۔ادھر آنکلا۔اس نے ڈانٹ ڈپٹ کرسب کو چپ کرا دیا۔اور کہا کہ اس طرح ہنگامہ کھڑا کرنے سے لڑ کا ضد میں آ کر ہاتھ سے نکل جائے گا۔تم خاموش ہو جاؤ۔ہم اسے سمجھاتے ہیں شام کو جب میں گھر آیا تو ہماری برادری کے برہمن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ تم مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہو۔میں نے کہا ہاں یہ درست ہے میں نے آج جمعہ کی نماز پڑھی ہے۔وہ نہایت نرمی سے پیش آئے اور کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں اس عمر میں انسان سے اکثر غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں۔ہم تمہارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ اگر اپنے مذہب کے متعلق کسی کے بہکانے سے تمہارے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہوگیا ہے تو بتاؤ ہم رفع کر دیں گے۔میں نے مورتی پوجا اور تاریخ کے متعلق جو مجھے اعتراض تھے ان پر ظاہر کئے وہ میری تشفی نہ کر سکے۔ایک عرصہ تک ان سے بحث مباحثہ ہوتا رہا۔آخر وہ مایوس ہو گئے۔ان دنوں اگر چہ سناتن دھرمیوں اور آریا سماجیوں کی آپس میں بہت مخالفت تھی لیکن مجھ کو مسلمان ہوتے دیکھ کر انہوں نے بعض آریوں کو کہا کہ ہم تو کشن لعل کو سمجھا نہیں سکے تم جا کر سمجھاؤ۔ان میں سے دو شخصوں نے (جن میں سے ایک کا نام لالہ بالک رام اور دوسرے کا نام کر پال سنگھ تھا اور ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے ) جو ہمارے قصبہ میں سرکاری ملازم تھے۔اور مذہبی بحث میں اپنے آپ کو بہت چاتر سمجھتے تھے۔کہا کہ کشن لعل داروغہ بھلا کہاں کا مناظر آ گیا ہے۔جس کے سوالوں کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ہم ابھی اس کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔چنانچہ وہ رات کو میرے پاس آئے باقی ہند و چھپ کر ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں پر ہماری گفتگو سننے لگے۔منشی عبدالوہاب صاحب نے مجھ کو بتایا کہ ان کو بھی ایک شخص نے آکر یہ اطلاع کر دی تھی کہ ہندووں نے بعض آریوں کو بحث کے لئے کشن لعل کے پاس بھیجا ہے۔چنانچہ وہ بھی ایک مسلمان کے مکان پر جو ہمارا پڑوسی تھا آگئے تا دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔میں اس وقت تک حضرت مسیح موعود کی کتابیں سرمہ چشم آریہ اور چشمہ معرفت پڑھ چکا تھا۔دو دن کی بحث میں خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ عاجز گئے۔منشی صاحب نے مجھ کو بتایا کہ فاصلہ پر ہونے کی وجہ سے وہ خود تو بحث نہ سن پاتے تھے لیکن جب بحث ختم ہوتی تو گلی میں چلتے ہوئے ہندو یہ ا فسوس کرتے جاتے تھے کہ لڑکا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔اس کی باتوں کا کوئی بھی جواب نہیں دے سکتا۔جس سے مجھ کو اطمینان ہوجاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی ہوئی ہے۔غرض ہند و جب دلائل سے بات کرنے میں عاجز آگئے تو ایک دن ہماری برادری کے بڑے بوڑھے اکٹھے ہوکر میرے پاس آئے اور مجھ کو۔