اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 54 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 54

54 خاطر اپنے ایمان کو چھپایا ہوا تھا۔اگر آپ ناراض ہوں گی اور مخالفت کریں گی تو میں اعلانیہ طور پر مسلمان ہو جاؤں گا اور گھر چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں گا۔والدہ صاحبہ مرحومہ کو مجھ سے بہت محبت تھی۔وہ ڈر گئیں کہ میں ان کو چھوڑ کر کہیں چلا نہ جاؤں۔آخر وہ اس بات پر رضامند ہو گئیں کہ میں چھپ کر بے شک نماز پڑھ لیا کروں مگر اس بات کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دوں۔ورنہ انہوں نے فرمایا کہ برادری ہمارا بائیکاٹ کر دے گی۔غرض اپنے گھر سے تو مجھے ایک گونہ تسلی ہوگئی۔میں اطمینان سے نمازیں پڑھنے لگا۔لیکن عام طور پر ہندوؤں کو میرے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا اسی اثناء میں میں نے پوشیدہ طور پر منشی عبدالوہاب صاحب سے قرآن شریف بھی پڑھنا شروع کر دیا۔میرے اسلام کا علم ہنود کو کیونکر ہوا:۔گھر کے لوگوں کے علاوہ میرے مسلمان ہونے کا علم سوائے فقیرمحمد سپاہی کے جو چونگی میں میرے ساتھ کام کرتا تھا اور بعض احمدیوں کے کسی کو نہ تھا۔لیکن ان کی غفلت کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ بات نکلنی شروع ہوئی اور ہمارے شہر کے مسلمانوں میں عام طور پر اس کا چرچا ہونے لگا مسلمان مجھ سے تعلق بڑھانے کی کوشش کرنے لگے ہمارے شہر میں زیادہ تر شیعہ فرقہ کے مسلمان تھے وہ مجھے اپنے مذہب کی کتب مطالعہ کے لئے دینے لگے اسی طرح دوسرے فرقہ کے مسلمان بھی بعض کتب پڑھنے کے لئے دے جاتے ایک دن ایک صاحب ایک رسالہ مجھے کو دے گئے اس میں لکھا تھا کہ جو مسلمان دیدہ دانستہ ایک جمعہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتا اس کا چوتھا حصہ ایمان کا جاتا رہتا ہے اور اگر وہ دو جمعے نہیں پڑھتا تو نصف ایمان ضائع ہو جاتا ہے اور اگر تین جمعے نہیں پڑھتا تو اس کا دو تہائی ایمان چلا جاتا ہے۔اور اگر چار جمعے نہیں پڑھتا تو وہ بالکل بے ایمان ہو جاتا ہے۔یہ پڑھ کر میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ میں مسلمان ہو کر پھر جمعہ مسجد میں جا کر نہیں پڑھتا۔میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جمعہ کے لئے مسجد میں جایا کروں گا۔احمد یہ مسجد ہمارے قصبہ میں باہر کی طرف تھی جمعہ کے روز میں اپنے دفتر سے ایک کمبل اوڑھ کر قصبہ کے باہر مسجد میں چلا گیا۔منشی عبدالوہاب صاحب خطبہ پڑھ رہے تھے میں جا کر بیٹھ گیا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب میں مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔تو ایک ہندو نو جوان راجہ رام جو ہمارے قصبہ میں عطاری کی دکان کرتا تھا۔پانی بھرنے کے لئے مسجد کے سامنے والے کنویں پر آیا۔وہ کنواں آدھا مسجد کے صحن میں تھا۔اور آدھا مسجد کے باہر جب اس نے مجھ کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھ لیا۔شک رفع کرنے کے لئے اس نمونه = مسجد صحن کنواں نے مسجد میں دو تین بار جھانک کر دیکھا جب اس کو یقین ہو گیا کہ میں ہی ہوں۔اور پھر اس نے نماز پڑھتے بھی مجھ کو