اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 48 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 48

48 گائے دوسرے جانوروں کی طرح ایک جانور ہے تم لوگوں نے اس کو اتنا آسمان پر کیوں چڑھا رکھا ہے؟ میں نے کہا وہ گوما تا ہے اس کے ہم پر بے حد احسان ہیں۔ماں کی طرح دودھ سے ہم کو پالتی ہے اسی لئے ہم اس کو مقدس مانتے ہیں۔اس پر گفتگو ایک مباحثہ کی صورت اختیار کر گئی اس نے پوچھا کہ تمہارے خیال میں بلحاظ محسنہ ہونے کے تمہاری حقیقی والدہ بڑھ کر ہے یا گئوماتا۔میں نے کچھ سوچ کر کہا کہ حقیقی ماں کا درجہ گئوماتا سے بہر حال بڑا ہے اس نے کہا کہ تم ہند ولوگ گو ما تا کا پیشاب تو پی لیتے ہو اپنی والدہ کا پیشاب کیوں نہیں پیتے۔اس سوال پر میں کھسیانا ہوا کیوں کہ مجھ کوعلم تھا کہ ہند و عمو ما وضع حمل کے بعد زچہ اور بچہ کو گائے کا پیشاب گنگا جل ملا کر پلاتے ہیں۔اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہندو مذہب میں بعض باتیں بہت تیج پائی جاتی ہیں۔غرض گرم سرد ہو کر میں نے اس سے پیچھا چھڑا یا مگر اس کی یہ بات مجھ پر اثر ضرور کر گئی۔کیا خدا واقعی دعائیں سنتا ہے؟:۔جب ہماری اس گفتگو کا چر چا چونگی خانہ میں ہوا اورمنشی عبدالوہاب صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو ان کو بھی شوق ہوا کہ مجھ سے وہ مذہبی امور پر باتیں کریں۔چنانچہ ان سے اکثر مذہبی گفتگو ہوتی۔وہ بہت پیار اور محبت سے مجھ کو تبلیغ کرتے ان کی صحبت سے رفتہ رفتہ مجھ پر ہندو مذہب کے نقائص اور اسلام کی خوبیاں ظاہر ہوتی گئیں۔اور خدا تعالیٰ کی توحید اور عظمت کا اثر میرے دل پر ہونے لگا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ خدا تعالیٰ ایک زندہ ہستی ہے جو اس کو پکارتا ہے وہ اس کی سنتا ہے اور جواب بھی دیتا ہے پھر منشی صاحب نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتا ہیں دکھانا شروع کر دیں۔اخبار بدرا اور الحکم ان کے پاس آیا کرتے تھے ان میں حضرت مسیح موعود کے تازہ بتازہ الہام بھی درج ہوتے تھے۔وہ اکثر میں پڑھا کرتا تھا۔انہی دنوں مجھے بعض مقاصد در پیش تھے میں نے سوچا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ خدا تعالی سنتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے۔چلو آزما کر دیکھیں کہ کیا واقعی اسلام کے طریق پر دعا کرنے سے خدا سنتا ہے؟ میرے مقاصد یہ تھے کہ والد صاحب فوت ہو گئے تھے بڑے بھائی لا پرواہ تھے۔دکان عیاشی میں ضائع کر دی تھی۔میری بہن کی والد صاحب ایک اچھے گھرانے میں منگنی کر گئے تھے شادی کرنا باقی تھا ہمار۔تھا ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہ تھا کہ ہندو رسم و رواج کے مطابق بہن کی شادی کر سکیں اس وجہ سے والدہ صاحبہ سخت متفکر رہتی تھیں۔والدہ صاحبہ کو رنجور دیکھ کر مجھے بھی دکھ ہوتا تھا۔دوسرا مقصد میری ترقی کا معاملہ تھا۔وہ ملازمت جو میں اس وقت کر رہا تھا ہمارے خاندان کی اس پوزیشن سے