اصحاب احمد (جلد 10) — Page 469
469 الدین سیوطی کے نزدیک یہ منار دمشق کی طرف ہونا چاہیئے اور ضروری نہیں کہ دمشق میں واقع ہو۔( حاشیہ ابن ماجہ مصری ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہی تحریک پر اشتہار مورخہ ۱۸ مئی ۱۹۰۰ء ( مشہور خطبہ الہامیہ ) کے ذریعہ یہ اعلان کیا کہ مسجد اقصیٰ قادیان میں ایک منارہ تعمیر کیا جائے گا۔جس کا اسلام کی سر بلندی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منارہ کی پیشگوئی کا ذکر کر کے اس کے فوائد بیان کئے ہیں اور مسجد اقصیٰ کے بارے تفصیل بھی بیان کی ہے حضور رقم فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیان کی مسجد جو میرے والد صاحب مرحوم نے مختصر طور پر دو بازاروں کے وسط میں ایک اونچی زمین پر بنائی تھی۔اب شوکت اسلام کے لئے بہت وسیع کی گئی لہذا اب یہ مسجد اور رنگ پکڑ گئی ہے۔یعنی پہلے اس مسجد کی وسعت صرف اس قدر تھی کہ بمشکل دوسو آدمی اس میں نماز پڑھ سکتا تھا لیکن اب دو ہزار کے قریب اس میں نماز پڑھ سکتا ہے۔اور غالباً آئیندہ اور بھی یہ مسجد وسیع ہو جائے گی۔میرے دعوای کی ابتدائی حالت میں اس مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے زیادہ سے زیادہ پندرہ ہیں آدمی جمع ہوا کرتے تھے۔لیکن اب خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ تین سو یا چار سونمازی ایک معمولی اندازہ ہے اور کبھی سات سو یا آٹھ سو تک بھی نمازیوں کی نوبت پہنچ جاتی ہے۔لوگ دور دور سے نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔یہ عجیب خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے بہت زور مارا کہ سلسلہ ٹوٹ جائے اور درہم برہم ہو جائے۔لیکن جوں جوں وہ بیخ کنی کے لئے کوشش کرتے گئے اور بھی ترقی ہوتی گئی اور ایک خارق عادت طور پر یہ سلسلہ اس ملک میں پھیل گیا۔نیز فرمایا کہ اس مسجد کے مشرقی حصہ میں تین امور کی خاطر منارہ تعمیر کیا جائے گا کہ اول: - پانچ وقت اس پر اذان دی جائے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لا اله الا اللہ کی آواز ہر ایک کان تک پہنچے۔گویا حضرت رسول پاک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس از لی ابدی زندہ خدا کی طرف رہنمائی کی تھی، اس کے سوا دیگر معبود باطل ہیں کیونکہ ان پر ایمان لانے والے کوئی نشان نہیں دکھلا سکتے۔دوم: اس مینار پر روشنی کا انتظام کیا جائے گا گویا لوگ معلوم کریں کہ آسمانی روشنی کا زمانہ آ گیا ہے۔سوم :۔اس پر جو گھڑیال آویزاں کیا جائے گا۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ پہچان لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آ گیا ہے۔نیز فرمایا کہ منارہ بیضاء کے پاس نزول کا مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے کہ اس وقت دینا میں میل جول اور ملاقات اور تبلیغ اور دینی روشنی پہچانے اور ندا کرنے کی ایسی سہولت ہوگی گویا یہ شخص منارہ