اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 450 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 450

450 کے روز تقسیم کرنے کے لئے رکھ چھوڑا ، قوم میں تفرقہ کا موجب ہوا ہے۔بعض افراد کے تائیدی خطوط اس بارے میں پیغام صلح میں شائع ہونے پر محترم ایڈیٹر صاحب الحکم نے اظہار نفرت کے خطوط شائع کئے جن میں ساتویں نمبر پر ذیل کا خط درج ہے۔جس سے پہلے نویسندہ کا تعارف بھی کرایا ہے کہ۔برادرم مکرم منشی حبیب الرحمن صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے اور مخلص احباب ( میں ) سے ہیں وہ سابقون الاولون میں داخل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر موقعہ پر جب جماعت کو کوئی ابتلاء آیا۔انہیں محفوظ رکھا۔ان کی طبیعت ناساز ہے اسی حالت میں وہ ذیل کا مختصر مضمون بھیجتے ہیں امید کرنی چاہیئے کہ وہ اور بھی کچھ لکھیں لگے (ایڈیٹر ) بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد و نصلی علی رسولہ لکریم حضرت مولانا حکیم حاجی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات اور مسئلہ جانشینی : حضرت خلیفتہ اول نے جو صدمہ قوم کو پہو نچایا بس ان کا دل ہی جانتا ہے مگر صبر قرآنی تعلیم ہے جس کا اجر مل کر رہتا ہے۔اخباروں - اعلانوں ( اور ) خطوں میں جو حالات پڑھے اور سنے ( انہوں نے ) اور بھی صدمہ پہنچایا۔احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ پایا اور جب ان کے متلاشی دل نے مان لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور جماعت میں داخل ہو گئے۔بیعت کے بعد سب احمدی آپس میں بھائی تھے۔کسی کو کسی پر برتری نہ تھی۔ان احمد یوں کو اپنے دوستوں سے عزیزوں سے، رشتہ داروں سے پڑوسیوں سے جو جو انعامات ملے وہ سب کو معلوم ہیں اور زیادہ تر حصہ داران انعامات کے بیچارے غرباء ہی تھے۔جن کی بیویاں بھی چھن گئیں۔اگر گھر بنا بھی رہا تو آئندہ کو رشتہ ناطہ بند، مار پیٹ ، مکانوں سے بیدخل۔یہ سب کچھ ان غریب احمدیوں کو برداشت کرنا پڑا امگر اس سچائی کو نہ چھوڑا جس کو ان کے دلوں نے قبول کیا۔اگر غور کرو تو کوئی امیر نواب، وکیل، مجسٹریٹ ، ڈاکٹر سوداگر وغیرہ ان مصائب میں گرفتار نہیں ہوا۔مگر ان کے امتحانوں کا بھی ایک وقت ہے۔جن میں ان کو جانچا جائے گا۔ان بڑے بڑے لوگوں ہی میں سے ممبر انجمن کے منتخب ( اور ) مقرر ہوئے۔اس طرح وہ اور زیادہ بڑے ہوئے۔قوم جبکہ ان کو اپنے ساتھ ایک ہی تسبیح میں پرویا ہوا دیکھتی جن کا صرف ایک ہی امام تھا۔ان کی اور زیادہ عزت کرتی۔بقول گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر تمام قوم نے حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحبہ