اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 423 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 423

423 ہے۔مدعی کو حقوق ملکیت حاصل نہیں ہے حاجی محمد ولی اللہ صاحب مرحوم نے مسجد کو فرقہ اہل سنت جماعت کے واسطے وقف کیا تھا مدعی جو حاجی صاحب مرحوم کا بھتیجا ہے۔اور وہ جو مسجد کا امام ہے۔ہر دو نے مذہب اہل سنت جماعت چھوڑ کر بیعت مرزا غلام احمد قادیانی کے ہو گئے ہیں۔جن کا طریقہ اہل سنت جماعت کے برخلاف ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسجد فرقہ مرزائیہ کے لئے مخصوص کی جاوے اور حاجی صاحب مرحوم ( کے ) فرقہ وطریقہ یعنی اہل سنت جماعت کو وہاں نماز پڑھنے نہ دی جائے اور کہ متعلق مسجد قانونا ہر ایک اہل سنت جماعت کو انتظام جائیداد کا یکساں اختیار ہے اس لئے مدعی دعوی کرنے کا مجاز نہیں ہے۔امور تنقیح طلب یہ ہوئے۔(۱) مسجد متنازعہ ملکیت واحد مدعی ہے یا کہ وقف ہے ثبوت بذمه مدعی (۲) حاجی محمد ولی اللہ صاحب بانی مسجد کا بوقت تعمیر مسجد کیا اعتقا دتھا۔آیا وہ مرزا صاحب قادیان والے کے مرید تھے یا کہ اہل سنت جماعت میں ہی تھے۔اور کہ مسجد کی تعمیر اور وقف ہو چکنے کے بعد انہوں نے اپنا اعتقاد تبدیل کر لیا تھا۔یا کہ وفات تک ان کا وہی اعتقاد رہا جو وقت تعمیر مسجد کے تھا۔ثبوت بذمہ فریقین (۳) حاجی صاحب نے کسی خاص فرقہ کے نماز کے پڑھنے کے واسطے مسجد کو وقف کیا۔ثبوت نذمه فریقین (۴) اگر حاجی صاحب نے بعد وقف کر دینے مسجد کے اپنا اعتقاد بدل لیا تو کیا وہ مسجد سے اس فرقہ کو جس کے واسطے پہلے وقف ہوئی محروم کر کے جدید فرقہ کو استعمال کے واسطے مسجد نہیں دے سکتے تھے۔ثبوت بذمہ مدعاعلیہم (۵) مدعی متولی مسجد کا ہے اگر ہے تو مدعی کو اس فرقہ کے سوائے حس کی نماز کے واسطے مسجد وقف ہوئی دیگر اعتقاد والے فرقہ کو مسجد کے استعمال کے بعد میں مداخلت کرنے سے روکنے کے حقوق حاصل ہیں ثبوت بذمه مدعی ”ہر ایک امر کی نسبت علیحدہ علیحدہ ظاہر کیا جاتا ہے نسبت امراول۔حمد سہوا’ دعا‘ رقم ہوا ہے۔(مؤلف)