اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 422 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 422

422 کا تک ۶۰ ء ۲۵/چیت ۶۶۰ نقل پرت حکم آخر بمقد مہ دیوانی راج کپورتھلہ ۲۶ ہاڑ ا ء ر مگر ۶۶۲ با جلاس لالہ ہری کشن داس صاحب نائب عدالتی بہادر بی۔اے حبیب الرحمن خلف شیخ ابوالقاسم ما لک و متولی مسجد واقع کپورتھلہ۔۔۔۔مدعی بنام عبداللہ ناظر محکمہ نظامت، حکیم صادق علی اسٹنٹ سرجن ملٹری ہسپتال مولوی محمود علی پر رندھیر * کالج محمد رمضان منشی ذخیره محمد خلیل نقشہ نویس میونسپلٹی وزیر ولد فریدا - محلہ شیر گڑھ محمد خاں ولد پیارے باجہ نواز تا با تیلی نابینا صابر خاں مدرس رند ہیر کالج عبد الخالق کورٹ حوالدار میجر و امام الدین سپاہی و جان محمد حوالدار و شیر احوالدار میجر دلال محمد ناٹک و کالے خاں ناٹک وغیرہ ملا زمان پیلٹن دویم وعلی محمد سپاہی تو پخانه مد عاعلیہم تجویز عدالت- مدعی یہ دعوی اس طرح دائر کرتا ہے کہ مدعی مسجد زیر بحث کا متولی و مالک ہے۔مدعی نے مسجد میں امام و مؤذن مقرر کئے ہوئے ہیں مدعا علیہم نے خلاف مرضی مدعی مسجد میں ناجائز حرکات کرنی شروع کی ہوئی ہیں۔جو مدعی مالک کے حقوق کے سخت مضر ہیں وہ نا جائز حرکات ہیں کہ مدعی علیہ نے ایک جدید امام اور موذن اپنی طرف سے مقرر کیا ہے۔جس کے مقرر کرنے کا مسجد مدعی میں مدعا علیہم کو کوئی حق نہیں ہے۔مؤذن مسجد مقرر کردہ مجھ مدعی متولی مسجد جب وقت پر اذان دے چکتا ہے۔تو اس کے بعد اسی وقت مدعا علیہم اپنے مؤذن سے مسجد میں اذان دلواتے ہیں۔اور جب امام مسجد مقرر کردہ مدعی جماعت کے واسطے مسجد میں کھڑا ہوتا ہے تو ساتھ ہی مد عاعلیہم کی علیحدہ نماز پڑھنے کے واسطے کھڑی ہوتی ہے۔بعد نماز جمعہ اس کو پڑھانے سے مدعاعلیہم رکتے نہیں۔اور چاہتے ہیں کہ مدعی کا مقرر کردہ امام جو روز تعمیر مسجد سے ہے۔نکال دیا جاوے ان افعال کے کرنے کا مدعی علیہم کو اذان دلوانے سے اور اس طرح جماعت بالمقابل کرانے سے اور جمعہ کی امامت سے روکا جاوے۔مد عاعلیہم نے تحریری جواب دعوای پیش کیا۔مدعی علیہم کو دعوی مدعی سے صاف انکار ہے کہتے ہیں کہ مدعاعلیہم نے کبھی نہ مسجد میں کوئی فساد یا جھگڑا کیا۔نہ کبھی اذان یا جماعت خلاف شرع کی ہے مدعی متولی مسجد نہیں غالباً پروفیسر“ کا لفظ سہواً ایسا لکھا گیا۔(مؤلف)