اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 18 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 18

18 کریں۔نماز کا میں شروع سے پابند رہا ہوں بیعت کے بعد میں نماز میں خاص لذت محسوس کرنے لگا۔حمید مزید بابت تعلیم۔عبدالاکبر خانصاحب کی بیعت :۔مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب میں انٹرنس میں داخل ہوا تو شروع سال ہی میں میں نے ارادہ کیا کہ انٹرنس کا امتحان ایک ہی سال میں دوں گا۔چنانچہ انگریزی تو میں کلاس کے ساتھ پڑھتا اور ریاضی اپنے طور پر جماعت سے آگے آگے کرتا۔چھ ماہ میں میں نے فورتھ ہائی کا ریاضی کا کورس ختم کر لیا او مجھے فتھ ہائی میں ترقی دے دی گئی اب جو میں ففتھ ہائی میں آیا تو کلاس ریاضی میں مجھ سے آگے تھی سو یہ کمی بھی مجھے خود ہی پوری کرنی پڑی اس طرح ریاضی کا سارا کورس میں نے بغیر استاد کی مدد کے حل شدہ کتابوں کو دیکھ کر خود پڑھ لیا۔ریاضی کے صبح سے دو پہر تک میں سوسوسوال الجبرا کے نکال لیتا۔اور نہ تھکتا تھا بلکہ اس کے سوال نکالنے میں میں خاص لذت محسوس کرتا تھا۔جماعت میں جس لڑکے کو ریاضی کا کوئی سوال نہ آتا مجھ سے سمجھا کرتا تھا۔عبدالاکبر میرا ہم جماعت تھا۔اور ہم دونوں کی آپس میں بہت محبت تھی جب میں نے حضرت صاحب کی بیعت کی تو عبدالاکبر کو بھی تبلیغ کرنے لگا۔یہ شروع میں بڑا برا مناتے اور حضرت صاحب کو برا بھلا کہتے مگر میں ان کو تبلیغ کرتا رہا۔آخر خدا کے فضل سے یہ احمدی ہو گئے ہیں بوجہ احمدیت رشتہ ترک کرنا:۔منشی احمد جان صاحب نے اب تک مجھے لڑکی دینے کا خیال ترک نہ کیا تھا۔اور میری بھی خواہش تھی کہ اسی جگہ میری شادی ہو۔ان دنوں پشاور کے لئے بھی انٹرنس کے امتحان کا سنٹر راولپنڈی میں تھا۔منشی صاحب اب پشاور سے راولپنڈی آگئے تھے امتحان کے لئے میں ان کے مکان پر ہی ٹھہرا۔میرے استفسار پر ماسٹر صاحب نے والدہ محترمہ کے متعلق بیان کیا کہ میرے احمدی ہونے پر وہ پشاور میں رہیں احمدی نہیں ہوئیں۔بیوہ ہونے کے بعد جج کیا۔۱۹۰۸ء سے پہلے فوت ہوگئیں۔وو تاریخ احمدیہ (بابت سرحد ) مرتبہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب میں ذکر ہے کہ عبدالاکبر صاحب تحصیلدار ہو گئے تھے خلافت ثانیہ کے مخالف رہے فوت ہو چکے ہیں (صفحہ ۳ ۸ تا ۸۵) استفسار پر ماسٹر صاحب نے فرمایا یہ وہی ہیں ۸۳ عبدالاکبر صاحب کی احمدیت قبول کرنے کا ذکر اس کتاب کے صفحہ ۶ے پر درج ہے۔