اصحاب احمد (جلد 10) — Page 342
342 آخری دعوای مسیحیت سنتے ہی علیحدہ ہوگیا۔‘ ( قلمی کاپی صفحہ ۲۶ و ۲۷) حضرت اقدس کا دعوای مسیحیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اواخر ۱۸۹۰ء میں وفات مسیح ابن مریم علیہ السلام کا اور اپنے مثیل مسیح ہونے کا اعلان فرمایا۔یہ بات منشی حبیب الرحمن صاحب کے بیعت میں آنے سے پہلے کی ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں۔دعوای کی اشاعت سے چند ماہ قبل منشی ظفر احمد صاحب اور اجین فضل حسین نے قادیان جانے کا قصد کیا۔میں بھی ان کے ہمراہ جانے کے واسطے تیار ہوا۔اور حضرت والد صاحب سے اجازت جانے کی طلب کی مگر ( انہوں نے ) اجازت نہیں دی۔فرمایا کہ ابھی ٹھہر و۔جناب والد صاحب بیمار تھے اور جیسا کہ پہلے عرض ہوا ہے۔ان کو مرض فالج تھا۔جس میں روز بروز زیادتی ہوتی جاتی تھی۔میں خبر گیری اور خدمت کرتا تھا۔جب یہ دونوں صاحبان قادیان سے واپس آئے تو بیان کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کر دیا ہے۔منشی ظفر احمد (صاحب) نے بیان کیا کہ میاں فضل حسین نے سنتے ہی علیحدگی اختیار کی اور واپسی کے لئے جلدی کرنے لگے۔رجسٹر بیعت کے اندراجات یوں ہیں : نمبر بیعت ۲۶ منشی اروڑے خان صاحب نمبر بیعت ۵۷ بنشی ظفر احمد صاحب نمبر بیعت ۵۸: میاں محمد خان صاحب ان چاروں کی بیعتیں اولین روز بیعت ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کی ہیں۔نمبر بیعت ۱۶۳) بنشی فیاض علی صاحب۔تاریخ بیعت ۲۱ راگست ۱۸۸۹ء نمبر بیعت ۱۵۶ بنفش فضل حسین صاحب ولد منشی غلام محی الدین اصل متوطن علی گڑھ حال سکونت مستقل کپورتھلہ۔اجنین تو پخانہ ریاست کپورتھلہ۔تاریخ بیعت ۲۸ / دسمبر ۱۸۸۹ء منشی حبیب الرحمن صاحب نے لکھا ہے کہ پھر انجئین فضل حسین کی زندگی عبرتناک ہوگئی اور نماز روزہ کیا، اسلام سے بھی تعلق باقی نہ رہا۔( قلمی کا پی صفحه ۲۶ تا ۲۸ )۔مولوی محب الرحمن صاحب کا بھی یہی بیان ہے۔اجنین مذکور کی بری زندگی کے بارے میں یہ بیانات ترک کر دیئے گئے ہیں اور شامل کتاب ہذا نہیں کئے گئے۔