اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 333 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 333

333 ہو گیا۔حاجی صاحب کے یہ کام اپنی جگہ ایک وزن رکھتے ہیں۔مگر حضرت اقدس کے ابتدائی زمانہ کے بعض معاونین کو سنت اللہ کے موافق ابتلاء آیا اور یہ اس لئے بھی ہوا تا خدا تعالیٰ کی قدرت نمایاں ہو۔حاجی صاحب نے براہین کے التواء کے متعلق اعتراضات کئے اور ادب کے مقام سے ہٹ کر وہی غلطی ان کے سامنے آ گئی، اور وہ اس نعمت کی قدر نہ کر سکے۔اب ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور وہ مکفرین اور سب وشتم کرنے والوں میں نہ تھے۔ان کو ایک وقت حجاب ہوا ورنہ براہین کے ابتدائی دور میں خود حضرت کو مجد د تسلیم کرتے تھے۔اس خصوص میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی شہادت میں نے حیات احمد جلد دوم نمبر دوم کے صفحہ ۸۲ پر میں درج کی ہے۔اس خط و کتابت کے پڑھنے سے جو حاجی صاحب اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا حاجی صاحب کو بعض حالات اور اثرات کے ماتحت کچھ قبض ہو ا۔اور اس کا اظہار انہوں نے اپنے کسی خط میں کیا جس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دسمبر ۱۸۸۴ء کو دیا اور پھر اس خط کے بعد حاجی صاحب نے کچھ سوالات کئے جن کا جواب حضرت نے ۳۰ دسمبر ۱۸۸۴ء کے مکتوب میں تحریر فرمایا۔اس کے بعد ۲۴ جنوری ۱۸۸۵ء کو حاجی صاحب نے ایک تفصیلی خط حضرت کی خدمت میں لکھا جس سے پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت اقدس کو احیاء اسلام کا ذریعہ سمجھتے تھے۔اور ہندوستان ہی میں آپکی بعثت کو ضروری سمجھتے تھے۔میں حاجی صاحب کے اس خط کو حضرت اقدس کے دوسرے مکتوب کے بعد درج کر دینا اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ تاریخ سلسلہ میں حاجی صاحب کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ رہے۔(۲۳) (بقیہ حاشیہ منشیانہ طرزتحریر پڑھنے میں سہو ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔جسے۲۲یا ۲۴ پڑھا گیا ممکن ہے وہ ۲۶ ہواور سن جس کو ۸۵ پڑھا گیا ممکن ہے وہ ۸۷ ء ہو۔نقول بقلم شیخ کظیم الرحمن صاحب خاکسار کے پاس موجود ہیں جن میں حضرت اقدس کے دو مکتوبات کی تاریخیں ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۶ ء اور ۸ / ربیع الثانی ۴-۱۳ ۱۳-۴ھ ہیں۔۸ ربیع الثانی مطابق ۳ جنوری ۱۸۸۷ء ہے۔۲۳ دسمبر والے مکتوبات کا جواب نہ آنے پر حضور نے ۸ ربیع الثانی (۳/ جنوری ) والا مکتوب بطور یاد دہانی تحریر فرمایا تھا۔گویا ۳ /جنوری ۱۸۸۷ء یاد دہانی کرانے پر حاجی صاحب کا جواب آیا جو طلب معافی والاخط ہے۔سوطلب معافی کا خط جنوری ۱۸۸۷ء سے پہلے کا ہوتا اور ۱۸۸۵ء کا ہونا امر صحیح نہیں اور لازماً حضور کے ۱۸۸۷ء کے مکتوب کے بعد کا ہے