اصحاب احمد (جلد 10) — Page 320
320 پھر حضور کی جانب سے ذیل کا مکتوب حاجی صاحب کو رقم فرمایا گیا: مخدومی مگر می اخویم حاجی محمد ولی اللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بعد اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ کا جواب بھیجا گیا تھا مگر آج تک انتظار رہا کہ آپ کی طرف سے کوئی جواب آوے تا پورا منشاء خط سابق کا ظاہر کیا جاوے۔آخر جواب سے نا امید ہو کر خود اپنی طرف سے تحریک کی جاتی ہے کہ آنمخدوم کے خط سابق میں اس قدر حرارت اور تلخی بھری ہوئی تھی اور ایسے الفاظ درشت اور ناملائم تھے جن سے یہ بداہت یہ بو آ رہی تھی کہ آن مکرم کی بدظنی غایت درجہ کے فساد اور خرابی تک پہنچ گئی ہے۔حاشیہ سابقہ: بعض امور کی تصحیح یہاں پیش کی جاتی ہے:- (۱) سہو۔تاریخ مکتوب ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۴ء تصحیح :- (الف) - براہین احمدیہ کے سالہائے طبع یہ ہیں: حصہ اوّل و دوم -۱۸۸۰ء حصہ سوم۔۱۸۸۲ء ( گویا دو سال بعد ) حصہ چہارم ۱۸۸۴ء ( گویا دو سال بعد ) سو جبکہ حصہ سوم، حصہ اول و دوم کے مجموعہ کے دو سال بعد اور حصہ چہارم حصہ سوم کے دو سال بعد شائع ہوا۔ظاہر ہے کہ چند ہی ماہ بعد کسی خریدار کو حصہ پنجم کے شائع نہ ہونے کا شکوہ پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔نہ ہی چند ماہ بعد حضرت اقدس کو یہ کہنا پڑتا (جیسا کہ) مکتوب زیر، تذکرہ میں حضور نے رقم فرمایا کہ براہین احمدیہ کے بقیہ کے طبع میں میری امید اور اندازے سے زیادہ تو قف ہو گیا ہے۔لوگوں کو کیا معلوم ہے کہ اس عرصہ میں کیا کیا کام تکمیل براہین کے لئے ہوئے۔میں بریکار نہیں رہا۔بلکہ بڑا بھاری سامان اتمام محبت کا جمع کرتا رہا۔بیس ہزار سے زیادہ خطوط میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کئے۔تفصیل ہذا سے عیاں ہے کہ بیس ہزار خطوط اپنے قلم سے تحریر کرنا اور دیگر امور یہ عظیم کام چند ماہ میں سرانجام نہیں پاسکتے تھے اس لئے ممکن ہے مکتوب زیر تذکرہ کی تاریخ تحریر ہونے یا شائع ہونے میں سہو ہوا ہو۔خاکسار مؤلف اصحاب احمد کے پاس اس مکتوب کی نقل بقلم منشی تنظیم الرحمن صاحب موجود ہے جس میں صاف تحریر میں تاریخ ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۶ء درج ہے۔اور یہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔باء-حضرت اقدس کو اس مکتوب کا جواب نہ آیا تو پھر حضور نے یاد دہانی کروائی۔یاددہانی کرنے والے مکتوب کی تاریخ ۴ فروری ۱۸۸۵ طبع ہوئی ہے۔جو مکتوب در حقیقت جنوری ۱۸۸۷ء کا ہے۔( یہ مکتوب آگے درج ہے) (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )