اصحاب احمد (جلد 10) — Page 319
319 بعد سلام مسنون آج مدت کے بعد عنایت نامہ پہنچا۔آپ نے جس قدر اپنے عنایت نامے میں اس احقر عباداللہ کی نسبت اپنے بزرگانہ ارشادات سے بدنیتی ، ناراستی ، اور خراب باطنی اور وعدہ شکنی اور انحراف از کعبہ حقیقت وغیرہ وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔میں ان سے ناراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اول تو ع هر چه از دوست می رسد نیکوست ماسوا اس کے اگر خداوند کریم ورحیم ایسا ہی برا انجام کرے جیسا آپ نے سمجھا ہے تو میں اس سے بدتر ہوں اور درشت تر الفاظ کا مستحق ہوں۔رہی یہ بات کہ میں نے آپ سے کوئی وعدہ خلافی کی ہے یا میں عہد شکنی کا مرتکب ہو ا ہوں تو اس وہم کا جواب زیادہ تر توجہ سے خود آپ ہی معلوم کر سکتے ہیں جس روز چھپے ہوئے پر دے کھلیں گے اور جس روز حــــــل مـــافــی الصدور کا عمل درآمد ہوگا اور بہت سے بدظن اپنی جانوں کو رویا کریں گے۔اس روز کا اندیشہ ہر ایک جلد باز کو لازم ہے۔یہ سچ ہے کہ براہین احمدیہ کی طبع میں میری اُمید اور اندازے سے زیادہ تو قف ہو گیا مگر اس تو قف کا نام عہد شکنی نہیں میں فی الحقیقت مامور ہوں اور درمیانی کارروائیاں جو الہی مصلحت نے پیش کر دیں ، دراصل وہی توقف کا موجب ہو گئیں جن لوگوں کو دین کی غمخواری نہیں۔وہ کیا جانتے ہیں کہ اس عرصہ میں کیا کیا عمدہ کام اس براہین کی تکمیل کے لئے ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اتمام حجت کے لئے کیا کیا سامان میسر کئے۔آپ نے سُنا ہوگا کہ قرآن شریف کئی برسوں میں نازل ہوا تھا کیا وہ ایک دن ( میں ) نازل نہیں ہوسکتا تھا۔آپ کو اگر معلوم نہ ہو تو کسی باخبر سے دریافت کر سکتے ہیں کہ اس عرصہ میں یہ عاجز بے کار ہایا بڑا بھاری سامان اتمام حجت کا جمع کرتا رہا تمیں ہزار سے زیادہ اشتہارات اردو انگریزی میں تقسیم ہوئے۔بیس ہزار سے زیادہ خطوط میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مختلف مقامات میں روانہ کئے۔ایک عقلمند اندازہ کر سکتا ہے کہ علاوہ جد و جہد اور محنت اور عرقریزی کے کیا کچھ مصارف ان کارروائیوں پر ہوئے ہوں گے۔ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔بد باطن اور نیک باطن کو ( وہ ) خوب جانتا ہے۔وان یک کاذباً فعلیه کذبہ اور اگر بقول آپ کے میں خراب اندروں ہوں اور کعبہ کو چھوڑ کر بت خانہ کو جارہا ہوں تو وہ عالم الغیب ہے آپ سے بہتر مجھے جانتا ہوگا لیکن اگر حال ایسا نہیں ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ روز مطالبہ اس بدظنی کا کیا جواب دیں گے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ولا تقف ماليس لك به علم ان السمع والبصرَ وَالْفُوز و كلّ أُوْلَئِكَ كان عنه مسئولا والسَّلام على مَن اتَّبع الهدى (۲۳/ دسمبر ۱۸۸۴ء) (۱۹) حاشیہ اگلے صفحہ پر