اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 315 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 315

315 آپ شریعت میں مجدد ہیں یا طریقت میں۔اور تجدید سے کیا مراد ہے اور قرآن مجید سے مجدد کا کیا ثبوت ہے۔اس مجدد کو پہلوں پر کوئی فضیلت ہے یا نہیں اور کیا آپ مجددالف ثانی کے پیرو ہیں وغیرہ ان کے ) سوالات نے ایک حقیقت کا اظہار کرا دیا۔اگر چہ خود حاجی صاحب کو اس نعمت اور فضل کے قبول کرنے کی توفیق نہ ملی بلکہ ان کو براہین کے التوائے اشاعت سے بعض شکوک اور شبہات پیدا ہوئے اور انہوں نے بعض نا ملائم الفاظ بھی اپنے مکتوب میں لکھے۔حضرت اقدس نے ان کو ان کے اُن خطوط کا بھی ایسا جواب دیا کہ جو ایک سلیم الفطرت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ایسے داخل ہوئے کہ مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ان سے اور ان کے دوسرے رفقاء سے اپنے ساتھ جنت میں ہونے کا وعدہ دیا۔“ بہر حال وہ مکتوب حضرت اقدس یہ ہے: مخدومی مکر می اخویم سلّمہ اللہ۔بعد سلام مسنون- آنمخدوم کا دوبارہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو اگر چہ باعث علالت طبع طاقت تحریر جواب نہیں لیکن آنمخدوم کی تاکید دوبارہ کیوجہ سے کچھ بطورا جمال عرض کیا جاتا ہے۔(۱) یہ عاجز شریعت اور طریقت دونوں میں مجدد ہے۔(۲) تجدید کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کم یا زیادہ کیا جاوے۔اس کا نام تو نسخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنی ہیں کہ جو عقائد حقہ میں فتور آ گیا ہے۔اور طرح طرح کے زوائد ان کے ساتھ لگ گئے ہیں یا جو اعمال صالحہ کے ادا کرنے میں ستی وقوع میں آگئی ہے۔یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کے طریق اور قواعد محفوظ نہیں رہے۔ان کو مجددا تاکیداً بالاصل بیان کیا جائے۔وقال اللہ تعالیٰ اعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يُحْى الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) (1+) یعنی عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل مرجاتے ہیں اور محبت الہیہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا اور اکثر لوگ رو بہ دنیا ہو جاتے ہیں اور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں عجب اور پست ہمتی اور انواع و اقسام کی بدعات پیدا ہو جاتی ہیں تو ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ صاحب قوت قدسیہ پیدا کرتا ہے اور وہ حجتہ اللہ ہوتا ہے۔اور بہتوں کے دلوں کو خدا کی طرف کھینچتا ہے۔اور بہتوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔یہ وسوسہ بالکل نکہتا ہے کہ قرآن شریف و احادیث موجود ہیں پھر مجدد کی کیا ضرورت ہے۔یہ انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غمخواری سے اپنے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت اسلامیہ کو نہیں