اصحاب احمد (جلد 10) — Page 314
314 حضور کے مجد دہونے کے بارے میں حاجی صاحب کے سوالات براہین احمدیہ کے بارے میں جو اشتہار حاجی محمد ولی اللہ صاحب نے نمازیوں کو سُنا یا ، اس کا ذکر کرنے کے بعد منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں :- " (حاجی صاحب نے ایک اور خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا اور اس طرف سے اطمینان چاہا کہ آپ واقعی مجد دوقت ہیں۔اس خط میں دس سوال کئے اور لکھا کہ اگر آپ واقعی مجدد ہیں تو اس کا جواب دیں۔اس خط کی نقل اپنے قلم سے کر کے مجھے دی لیکن حضرت صاحب کی طرف سے جواب میں تو قف ہوا اور والد صاحب مرحوم کو بے حد انتظار تھا۔اس لئے آپ نے بطور یاد دہانی دوسرا خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا اور دو سوال اور ایزاد کئے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دیا۔یہ خط بھی اخبار الحکم میں طبع ہو چکا ہے لیکن جناب والد صاحب مرحوم کے محتاط قلب نے ابھی تک یہ یقین نہ کیا۔کیونکہ بعض دفعہ اپنے دوستوں سے ذکر اذکار کرتے ہوئے میں نے سُنا تھا۔(قلمی کا پی صفحہ ۱۲۔۱۳) تھا کہ: حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں کہ : اگر چہ حضرت نے براہین احمدیہ کی تالیف واشاعت کے لئے جو اعلان شائع کیا تھا اس میں یہ صاف لکھا خدا تعالیٰ کی طرف سے مولف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے۔“ جب رفتہ رفتہ آپ کے دعوے کا چرچا ہونے لگا تو بعض لوگوں نے کھلم کھلا آپ سے دعویٰ مجددیت کے متعلق سوالات شروع کر دیئے۔اس قسم کے سائلین میں سے ایک حاجی ولی اللہ صاحب ریاست کپورتھلہ کے ایک معزز عہدہ دار تھے۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کے نام پر پھگواڑہ کے قریب حاجی پور نام ایک گاؤں آباد ہے اور آپ ہمارے مخلص اور باصفا بھائی منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے عزیزوں میں سے تھے۔انہوں نے حضرت کی خدمت میں آپ کے دعویٰ مجددیت کے متعلق خطوط لکھے جن میں آپ سے سوال کیا گیا کہ (بقیہ حاشیہ سابقہ ) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے تصدیق شدہ مضمون میں جو شی نظیم الرحمن صاحب نے تحریر کیا تھا، یہ امور درج ہیں کہ اس مولوی نے حضرت اقدس پر اعتراض کیا لیکن حاجی صاحب کے منہ سے حضور کے خلاف کوئی کلمہ نہیں نکلا۔یہ بھی کہ ایک شخص نے بتایا کہ اس نے براہین احمدیہ منگوائی ہے تو حاجی صاحب نے اس سے حاصل کر کے مطالعہ کیا اور پھر مولوی مذکور کو خط لکھا اور حضور کی خدمت میں طلب عفو کے لئے عرض کیا۔(۹) براہین احمدیہ حصہ سوم و چہارم کے ملنے اور طلب معافی کے خط لکھنے کی تاریخوں کا مفصل ذکر دوسری جگہ کیا گیا ہے۔