اصحاب احمد (جلد 10) — Page 301
301 جماعت کو تحریری بشارت دی کہ کپورتھلہ کی جماعت دنیا میں ہمارے ساتھ ہے اور قیامت (یا جنت ) میں بھی ہمارے ساتھ رہے گی۔(۷) ( د ) حضرت عرفانی صاحب یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پرانے خدام کی خصوصیت سے دلجوئی اور قد رفرمایا کرتے تھے۔اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کے ایسے برتاؤ کرتے کہ ان کی یاد آج دلوں کو تڑپا جاتی ہے۔نمائش اور تکلفات سے آپ ہمیشہ آزاد تھے اس جماعت مخلصین میں سے دو بزرگ حضرت اخویم محمد خان صاحب اور حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحب رضی اللہ عنہما اپنے محبوب سے جاملے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک گرامی نامہ میں تحریر فر مایا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے ساتھ ہوں گے۔(۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔دو ختمی محمد و می حضرت منشی ظفر احمد صاحب اس بزم محبوب کی ایک دلر با یادگار ہیں وہ اکثر بیمار رہتے ہیں۔میں خصوصیت سے احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کی صحت اور درازی عمر کے لئے دعا کرتے رہیں۔ایسا ہی محبی مخدومی منشی حبیب الرحمن صاحب پیارے آقا کے فدائیوں میں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر پر ہمہ در داور اضطراب ہو جاتے ہیں ان کے لئے بھی درخواست دعا ہے۔یو (۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر بغرض تعزیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحب کپور تھلہ تشریف لے گئے اس وقت منشی حبیب الرحمن اور بعض دیگر احباب وہاں موجود نہ تھے اس لئے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔آپ رقم فرماتے ہیں۔☆ الحکم ۲۸ مئی ۱۹۲۵ء ( صفہ ہ) یہان عرفانی صاحب یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ مامور ہونے کے بعد جب محبت و اخلاص سے ان احباب نے جو کوئی مرتبہ یا و جاہت نہیں رکھتے تھے حضور کو بلایا تو حضور کپورتھلہ تشریف لے گئے حالانکہ افسر صیغہ تعلیم مقرر کئے جانے کے لئے ماموریت سے پہلے اس ریاست نے آپ کو بلایا تھا تو آپ نے حضرت والد صاحب سے یہ عرض کر کے انکار کر دیا تھا کہ میں کوئی نوکری نہیں کرنا چاہتا ہوں دو جوڑے کھڈ ر کے کپڑوں کے بنادیا کرو اور روٹی جیسی بھی ہو بھیج دیا کرو (۹)