اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 242 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 242

242 میں نے اس طالب علمی میں ان کے چہرے پر طہارت نفس کی روشنی نمایاں دیکھی ان کی متبسم صورت اور طبیعت میں فروتنی اور انکسار کے ساتھ مومنانہ جرات پائی۔میں وہاں کے طلبہ کے مذاق اور حالات سے واقف تھا۔مگران دونوں بھائیوں میں عموماً اور حضرت بقا پوری صاحب میں خصوصاً وو در جوانی تو به کردن شیوه پیغمبری کے آثار ہویدا تھے۔اور آپ اپنی علمی موشگافیوں سے زیادہ اپنی قلبی قوتوں کی ترقی کی طرف متوجہ تھے۔آپ نصاب تعلیم میں بھی سست نہ تھے۔لیکن۔ایکه خواندی حکمت یونانیاں یا حکمت روحانیاں راہم بخواں کے مطابق حکمت ایمانیاں کو ترجیح دیتے تھے۔اور یہی تڑپ بالآخر آپ کو منہاج نبوت پر روحانی تربیت کے سرچشمہ پر لے آئی۔چنانچہ ۱۹۰۵ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو سوالات کئے وہ اصلاح نفس اور روحانی ترقی کے ذرائع معلوم کرنے کے لئے کئے۔آپ قرآن مجید میں مذکور حقیقی علماء میں سے ہیں جن کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہوتی ہے ان میں مقصود خلق پانے کی تڑپ تھی۔اور موجودہ عملی تصوف کو وہ تزکیہ نفس کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔اور اس تڑپ نے بالآخر گو ہر مقصود کو احمدیت میں پالیا جس سے آپ کو ایک نئی زندگی ملی۔اور آپ نے اپنی زندگی احمدیت کے لئے وقف کر دی۔آپ اپنے خاندان میں احمدیت کے آدم ہیں اور آپ کی عملی زندگی نے آپ کے خاندان کو احمدیت میں داخل کر دیا بلکہ ان میں احمدیت کی روح پیدا کر دی۔جی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ نے آپ کی علالت کی وجہ سے احباب کو دعا کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری مخلص بزرگوں میں سے ہیں اور صحابی بھی ہیں۔آج کل وہ۔۔۔بیمار ہیں اور انہوں نے ایک غیبی تحریک کی بناء پر مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے لئے الفضل میں احباب سے دعا کی تحریک کروں۔سو میں امید کرتا ہوں کہ دوست جماعت کے اس مخلص بزرگ کوفر ورا اپنی دعاؤں میں یا درکھیں گے جوں جوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ گذرتے جاتے ہیں لازماً اس مقدس جماعت کی قدر بڑھ حمد حیات بقا پوری حصہ اول صفحه ۲۳۱ تا ۲۳۷ - حضرت عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ مولا نا بقا پوری صاحب کی ۱۹۰۵ء والی ملاقات حضرت اقدس سے اولین ملاقات تھی۔یہ سہو ہے جیسا کہ گذشتہ اوراق میں اولین ملاقات ۱۸۹۱ء میں ہونے اور بعد ازاں ۱۹۰۵ ء تک کئی بار ملاقات ہونے کا ذکر ہے۔