اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 231 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 231

231 صدرانجمن کی ملازمت :۔حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیروی نے (جنہوں نے مولانا بقا پری صاحب کی دوسری شادی میں بھی امداد کی تھی۔) سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں ۱۹۱۴ء تحریر کیا کہ مولوی صاحب عالم اور نیک ہیں۔اور اس وقت جماعت کو ایسے ہی افراد درکار ہیں۔ان کو مبلغین میں شامل کرنا مفید ہوگا۔(70) چنانچہ حضور نے خط لکھ کر آپ کو اکتوبر ۱۹۱۴ء میں سرگودھا سے بلا کر فرمایا کہ ترقی اسلام کے منتظم اعلیٰ حضرت مولوی شیر علی صاحب سے مل کر اپنے گزارے کے متعلق بھی بات چیت کر لیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود نے بوقت بیعت میرے عرض کرنے پر فرمایا تھا کہ لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے حق کو پالیا ہے۔اور دعا کرنے کے بعد ان کو تبلیغ کرنا۔اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا۔اور پھر جب حضور نے وقف زندگی کی تحریک کی تو حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت بابا حسن محمد صاحب اور حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ وغیرھم کے ساتھ میں نے بھی زندگی وقف کی تھی۔اور جس طرح دس سال سے گذارہ کا انتظام ہے اب بھی ہوتا رہے گا۔حضور نے فرمایا کہ اب چونکہ کلیہ انجمن کے ماتحت ہوں گے اس لئے گزارہ لینا جائز ہے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے آپ سے یہ سن کر کہ دس بارہ روپے میں گزارہ ہو جائے گا پندرہ روپے مشاہرہ مقرر کیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کم ہے کیونکہ اب دیہاتی زندگی کی بجائے شہری زندگی اختیار کرنی ہوگی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے بائیس روپے مقرر کر دیئے۔اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ خود آپ کی ترقی کا خیال رکھتے رہے۔چنانچہ پنشن قاعدہ کی رو سے قریباً پچیس روپے بنتی تھی۔حضور نے چالیس کر دی۔حضور کی نظر میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔چنانچہ حضور نے اپریل ۱۹۳۶ء کی مشاورت میں یہ بتاتے ہوئے کہ مبلغین کیسے ہونے چاہئیں آپ کا بھی ذکر مثالی رنگ میں فرمایا۔(صفحہ ۲۶) آپ کو ملازمت میں ہندوستان کے بہت سے مقامات پر تبلیغ کے متعلق جانے کی توفیق حاصل ہوئی۔سندھ میں بھی کئی سال متعین رہے۔وہاں سے واپسی پر قادیان میں واعظ مقامی مقرر ہوئے۔اور ۱۹۳۵ء میں آپ نے پنشن پائی۔اس عرصہ میں بھی آپ کو بیرونی جماعتوں میں رفع تنازعات کے لئے بھجوایا جاتا۔نظارت تعلیم وتربیت کی ایک سالانہ رپورٹ میں آپ کے کام کی شخص یوں درج ہے :۔’ایک ذریعہ تربیت کا قادیان کی بڑھتی بقیہ حاشیہ :۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طرف سے مخالفین خلافت کے افتراؤں کی تردید کی گئی ہے۔