اصحاب احمد (جلد 10) — Page 229
229 اس کے بعد آپ جنگل کی طرف روانہ ہوئے تو مولوی محمد علی صاحب نے کھڑا کر کے کچھ دیر باتیں کیں۔رات کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت میر ناصر نواب صاحب ، حضرت نواب محمد علی خانصاحب اور اپنے بھائیوں کو جمع کر کے یہ کہا کہ اگر یہ لوگ اس بات پر راضی ہو جائیں تو مولوی محمد علی صاحب ہمارے خلیفہ ہو جائیں تو میں ان کی بیعت کرلوں گا۔ہم انصار اللہ نے بھی یہ بات مان لی۔احباب رات بھر دعائیں کرتے رہے۔اور صبح روزہ رکھا۔اور بعد نماز فجر حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولا نا بقا پوری صاحب سے کہا کہ میرے کمرے میں چالیس احباب کو جمع کریں میں نے ان سے مشورہ کرنا ہے۔چنانچہ ان کے جمع ہونے پر آپ نے مختصر افر مایا کہ الوصیت میں لکھا ہے کہ جس پر چالیس آدمی متفق ہوں۔وہ بیعت لینے کا مجاز ہے۔سو آپ چالیس یہ بتلائیں کہ خلیفہ انجمن کا مطیع ہوگا یا مطاع۔اور کیا وہ ہر ایک نئے اور پرانے سے بیعت لے گا یا صرف آئندہ احمدی ہونے والوں سے سب نے کہا کہ خلیفہ مطاع ہوگا۔اور ہر نئے اور پرانے احمدی سے بیعت لے گا۔مولا نا بقا پوری صاحب یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عرفانی صاحب نے کہا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو ہم خلیفہ مانتے ہیں، ہم سے بیعت لے لیں۔آپ نے فرمایا کہ میں اس طرح خفیہ بیعت نہیں لینا چاہتا۔نہ میں نے بیعت کے لئے آپ لوگوں کو بلایا ہے۔آپ لوگ آنے والے لوگوں سے ہر دو امور کے متعلق دریافت کریں۔چنانچہ اڑھائی ہزار افراد سے دریافت کیا گیا۔سب نے چالیس افراد والا جواب ہی دیا۔ان میں سے چالیس پچاس سے مولا نا بقا پوری صاحب نے بھی دریافت کیا تھا۔مولانا صاحب ذکر کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات سے قبل ہی مولوی محمد علی صاحب نے ایک فتنہ سازٹریکٹ چھپوا رکھا تھا۔جو میرے نام راولپنڈی سے ۱۴ مارچ کو حوالہ ڈاک کیا گیا۔اس میں انجمن کو حضور کی جانشین بتلایا گیا تھا۔اور یہ کہ الوصیت کا مفہوم یہ ہے کہ پرانے لوگوں سے نہیں بلکہ نئے احمدی ہونے والوں سے بیعت لی جائے گی وغیرہ۔اور یہ ٹریکٹ مجھے رات دو بجے ملا۔ہفتہ کے روز انجمن کے ممبران کا مشورہ میں اتفاق نہ ہوسکا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس امر پہ رضامندی کا اظہار کیا کہ آپ لوگ خلافت کے قیام کے قائل ہوں تو ہم تو مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کو بھی تیار ہیں لیکن مخالفین خلافت یہ کہتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول کی تدفین عمل میں لائی جائے۔اور انتخاب خلافت کے لئے کوئی اور تاریخ مقرر کر لی جائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا انتخاب بطور خلیفہ ہوا۔اور آپ نے حضرت خلیفہ اول کا جنازہ پڑھایا۔چند آدمی جنہوں نے بیعت نہ کی