اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 212 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 212

212 کہ تھوڑی دیر کے لئے نہ کہد ینے میں بھی حرج ہے اور میرے ہاں یا نہ کہنے پر شادی کا دارو مدار تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا۔اور میں نے انہیں کہا کہ میں یہ نہیں کہونگا مولوی خاموش ہو گیا۔اور وہ احباب واپس چلے گئے اور خسر صاحب اور اقارب کو بہت افسوس ہوا اور فکر مند ہوئے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی دعا کے متعلق ایک تقریر کا مجھ پر گہرا اثر تھا رات کو میں نے بہت الحاج سے دعا کی۔صبح ناشتہ کے وقت سب افسردہ تھے۔بھائی نے کہا اب کیا ہوگا۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔معاملہ ٹھیک ہو جائیگا۔اور خسر صاحب سے کہہ کر تنہا مولوی مذکور کو بلوالیا۔مولوی صاحب کی ناشتہ سے خاطر تواضع کرتے وقت میں نے ان سے کہا کہ نکاح نہ پڑھنے کا سبب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ایک مسلمان کیلئے امنٹ بِاللهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِہ کی صفات ہیں اور ہم ان سب باتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔اور دل سے یقین کرتے ہیں۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھتے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھتے اور کعبة اللہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔باوجود اس کے ہمیں کافر کہنا کتنی بے انصافی ہے اور میں نے اسی دوران میں دس روپے کا ایک نوٹ ان کی طرف سرکا دیا۔وہ راضی ہو گیا۔اور میں نے ماموں صاحب سے کہا کہ آپ اپنے ڈھب کے دو تیں افسر بلا لیں زیادہ آدمیوں کی ضرورت نہیں۔مولوی صاحب خود ہی ان لوگوں کو سمجھا لیں گے۔الغرض پانچ سات آدمی آگئے۔اور مولوی مذکور نے ان کو سمجھایا اور بہت جلدی خطبہ پڑھنا شروع کر دیا۔جس کے اختتام پر مبارک سلامت ہوئی۔دعا کر کے مولوی چمپت ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا کام ہو گیا۔اور ہم دودن کے بعد دلہن لے کر سیالکوٹ چلے آئے۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے ۱۹۰۳ء میں بیعت کی اور پھر حضرت مسیح موعود" کی زیارت قادیان میں کی۔باتیں سنیں۔مرحومہ قادیان آتیں تو چونکہ یو۔پی کی رہنے والی تھیں۔اس لئے سیدہ ام المومنین انہیں دارا اسی میں اپنے پاس ٹھہرا تیں۔اور کسی دوسری جگہ ٹھہر نے نہ دیتیں۔آپ نے اکتوبر ۱۹۲۶ء میں بمقام میرٹھ وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔موصیبہ نہیں تھیں۔مولوی صاحب تھیں سالہ ازدواجی زندگی کا تجربہ بتاتے ہیں کہ خدا کی بندی (مرحومہ ) نے اس عرصہ میں نماز اور تجد بھی نہیں چھوڑی۔بہت نیک اور دعا کر نیوالی خاتون تھیں۔آپ کی اولاد عبدالحکیم خان ( وفات بتاریخ ۲۸ جون ۱۹۵۹ء بعمر تریسٹھ سال اور اقبال احمد خاں (ولادت ۱۹۰۰ء ) ہے لیکچر سیالکوٹ کے موقع پر ان دونوں نے سیالکوٹ میں حضرت اقدس مسیح موعود کی زیارت کی تھی۔ہے حاشیہ اگلے صفحہ پر