اصحاب احمد (جلد 10) — Page 204
204 تفصیل قبول احمدیت :۔سید تفضل حسین صاحب انا وی غالبا ۱۸۹۶ء میں تحصیل ہو گام میں بطور تحصیل دار متعین ہوئے۔آپ کی تبلیغ سے ( قاضی شاد بخت صاحب کے دادا ) قاضی تو نگر علی صاحب نے (جن کی وفات ۱۹۲۸ء کے قریب ہوئی ) احمدیت قبول کی لیکن حضرت مسیح موعود کی زیارت کا موقع نہیں پایا۔قاضی صاحب کے زیر اثر قاضی اشرف علی صاحب نے احمدیت قبول کی اور ۱۹۰۵ء میں قادیان آکر حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔فرماتے تھے کہ علی پور کھیڑہ تا شکوہ آباد اور بٹالہ تا قادیان کے درمیان ریل نہ ہونے کے باعث علی الترتیب ڈیڑھ صد چوبیس میل کا فاصلہ آمد ورفت کے وقت پیدل طے کیا تھا۔سیرت :۔قاضی اشرف علی صاحب مرحوم کو غیبت اور چغلی بہت نا پسند تھی۔چنانچہ اقارب کی مستورات کو ہمیشہ ہی اس بات سے اجتناب کی تاکید کرتے تھے۔مبالغہ کی حد تک امین تھے کوئی امانت رکھے تو بعینہ وہ رقم پوٹلی میں باندھ کے رکھتے اور عند الطلب واپس کرتے اس امر کو نا پسند سمجھتے تھے کہ امانت کی رقم بعینہ اور اصل ہی واپس نہ کی جائے۔نقل رجسٹر بیعت میں اٹھتر ویں نمبر پر آپ کی بیعت ۷ اپریل ۱۸۸۹ء میں درج ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔”مولوی محمد تفضّل حسین صاحب ولد مولوی الطاف حسین صاحب مرحوم رئیس اناوه وسررشتہ دار کلکٹری علی گڑھ“ آپ کا نام ۱۳۶ نمبر پر۳۱۳ صحابہ میں ضمیمہ انجام آتھم میں مرقوم ہے؟ قاضی تو نگر علی صاحب علی پور کھیڑہ ض ( یعنی ضلع مین پوری کے الفاظ میں بیعت الحکم مورخہ نومبر ۱۹۰۰ء میں موجود ہے۔( صفحہ اک ۳) آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے ظلم و تعدی سے اولا دکور و کتے اور اقارب میں خوب تبلیغ کرتے تھے۔اس خاندان میں قاضی شاد بخت قاضی فیروز بخت اور قاضی ہمایوں بخت صاحبان نے ۱۹۰۵ء میں بذریعہ خط بیعت کی لیکن زیارت نہیں کر سکے۔