اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 198 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 198

198 چنانچہ حضور اس وقت رسول کریم ﷺ کے ساتھ تشریف فرما ہیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔جدید آپ کے اخلاق حسنہ:۔آپ کو قادیان سے عشق تھا۔آپ اپنے گاؤں سے بکثرت قادیان آتے۔کئی روز قیام کرتے نمازیں پڑھتے ، دعائیں کرتے۔آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود سے بہت محبت تھی۔* لین دین کے صاف تھے۔احمدی احباب نے اپنے گاؤں میں پہلے کچی مسجد بنائی اور پھر پکی بنائی اس کی تعمیر میں اپنی توفیق کے مطابق مرحوم نے بھی شرکت کی۔خود اس میں اذان دیتے تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔وفات و تدفین : قادیان ۲۵ستمبر کل رات یعنی ۲۴/۲۵ کی درمیانی شب بوقت گیارہ بجے۔مکرم بابا کرم الہی صاحب وفات پا گئے۔آج بعد نماز جمعه محترم مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے درویشوں ( کی) کثیر تعداد کے ساتھ مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں بارش کا پانی جمع ہونے کے وجہ سے مرحوم کو مسجد اقصی کے قریب اماننا دفن کیا گیا۔۔۔( آپ ) صحابی تھے اور ایک عرصہ سے بوجہ پیرانہ سالی چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے۔اور آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی تھی۔خاکسار مؤلف کی رائے میں خواب کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کو قادیان میں جو ارض حرم“ ہے قیام کا موقع ملے گا۔اور اس مقام والا علاقہ ایک نئے اور غیر ملک کی شکل اختیار کر چکا ہوگا۔اور آپ اسے پہچان نہیں سکیں گے۔اس لئے کہ جس درویشی دور میں آپ نے قادیان آنا تھا وہ اپنے وقت پر ہی معرض وجود میں آتا۔یہ یکی دور ظاہر ہوا اور اس مقام پر ظاہر ہوا۔جو حضور کا مدفن ہے۔آپ قادیان امئی ۱۹۴۸ء کو آنیوالے قافلہ میں قادیان آئے تھے۔میاں جلال الدین صاحب در ولیش بتاتے ہیں کہ مرحوم موضع پھیر و پیچی ( نزد قادیان ) اپنی لڑکی کے پاس گئے ہوئے تھے کہ وہاں سے مسلمانوں کو نکلنا پڑا۔اور اس گاؤں کے لوگ قادیان آگئے اور مرحوم یہاں سے پاکستان جا کر پھر قادیان کے لئے آنیوالوں میں نام دے کر آگئے۔بیان مرزا محمد زمان صاحب درویش جنہوں نے جولائی ۱۹۴۵ء سے لنگر خانہ میں کارکن کے طور پر کام شروع کیا تھا۔گویا ان کو یہ تجر بہ بابا جی کے متعلق ایک سال کا ہے۔بیان میاں جلال الدین صاحب درویش۔