اصحاب احمد (جلد 10) — Page 189
189 بیانات میں تضاد ہے اس لئے تقدم کے متعلق محض ان کے بیان پر انحصار نہیں جب تک دیگر قرائن مرجمہ بھی نہ ہوں۔کرتے تھے۔حضور کی دعاؤں کی برکت سے کبھی کوئی نقصان نہیں اٹھایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی برکت دی:۔آپ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح مجھے حضرت اقدس کی صحبت با برکت میں رہنے اور نشانات دیکھنے کا موقع ملا۔اور کئی دفعہ میں پکار اٹھتا کہ لوگو! دیکھو زبان انسان کی ہے لیکن بولتا خدا ہے۔ایک دفعہ کسی نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے شکایت کے رنگ میں کہا کہ مسجد کے قریب دکان نہیں ہونی چاہئے۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود سے ذکر کیا تو فرمایا۔آپ جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں یہ اصحاب الصفہ ہیں یہ سن کر خوشی کے مارے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔حمد حضرت خلیفہ اول سکا گھوڑے سے گرنا:۔مکرم شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دوست نے سرخ رنگ کی ایک گھوڑی حضرت خلیفہ اول کو تحفہ کے طور پر دی تھی۔آپ اس پر سوار ہو کر اس گلی میں سے آ رہے تھے جو مہرالدین آتشباز کے مکان کے قریب ہے گھوڑی بہت بد کنے والی تھی۔چنانچہ وہ بدک گئی اور حضرت خلیفہ اول کا پاؤں رکاب میں لٹک گیا۔اور حضور ایک طرف کو لٹک گئے۔میں نے دیکھا تو فوراً بھاگ کر لگام پکڑ لی۔میں جوان تھا میں نے گھوڑی کو چھوڑ انہیں وہ مجھے دھکیل کر آٹھ دس قدم تک لے گئی۔اتنے میں آپ کا پاؤں رکاب سے نکل گیا۔اور آپ ایک کھنگر پر گرے جس کی وجہ سے آپ کی کنپٹی پر چوٹ آئی جو بعد میں ناسور بن گئی۔اور یہ ناسور آپ کی وفات تک باقی رہا۔حضور گرنے سے بیہوش ہو گئے۔میں نے آپ کو اٹھایا اور چونکہ یہ واقعہ میرے مکان کے سامنے پیش آیا تھا۔اس لئے اپنی اہلیہ کو آواز دی۔وہ چار پائی اور کپڑا لے آئیں اور آپ چار پائی پر لیٹ گئے حضور کے سر میں پانی ڈالا مگر خون بند نہ ہوا۔میں نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا جو نصف کے قریب خون آلود ہوگئی۔تھوڑی دیر کے بعد ہوش آئی تو فرمایا کہ خدا کے مامور کی بات پوری ہوگئی۔خاکسار کے استفسار پر آپ نے بتایا کہ ان دوکانات کے مالک مرز انظام الدین صاحب تھے اور فی دکان ڈیڑھ روپیہ ماہوار کرایہ تھا۔نیز سب سے پہلی دکان کریانہ کی جو کسی احمدی نے کھولی وہ میری تھی۔کچھ سامان میں لنگر خانہ کے پاس فروخت کر دیتا تھا۔اور کچھ حضرت مسیح موعود کے پاس اور اسی سے میرا گزارہ ہو جا تا تھا۔خاکسار مولف نے توثیق کی خاطر کہ شیخ صاحب کی کریانہ کی اولین دکان تھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ کی خدمت میں تحریر کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ شیخ رحمت اللہ صاحب حال لائلپور قادیان میں