اصحاب احمد (جلد 10) — Page 188
188 (۲) بچی قادیان میں پہلے بچہ کے کتنے ماہ بعد پیدا ہوئی۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر چنانچہ آپ نے پنساری کی دکان کھول لی اور اس کے بعد اور بھی مختلف کام کئے۔مثلاً کوئلہ اور چونا بھی فروخت بقیہ حاشیہ : ( کیونکہ ۱۹۰۶ء میں بچی قادیان میں ہجرت کر آنے کے بعد آپ بیان کرتے ہیں ) جواب دو سال بعد (۳) بوقت بیعت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ابھی زندہ تھے ؟۔( آپ کی وفات ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو ہوئی ) (۴) بلکہ اس سے بھی قبل کے دو واقعات آپ بتاتے ہیں جن سے بیعت کی ایک حد تک تعین ہو جاتی ہے ایک تو یہ کہ آپ سفر جہلم کے موقع پر حضرت مسیح موعود کے ساتھ جہلم گئے تھے۔( یہ سفر قادیان سے ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کو شروع ہوا اور ۱۹ جنوری کو حضور مراجعت فرمائے قادیان ہوئے ) اس سفر والے عرصہ کی مزید توثیق و تائید مکرم شیخ صاحب کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید جب قادیان سے الوداع ہونے لگے اور وہ بے ختیار حضرت مسیح موعود کے پاؤں پر گر گئے۔یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔حضرت شہید صاحب سفر جہلم میں حضور کے ہمراہ تھے۔اور غالبا اکتو بر ۱۹۰۲ء میں قادیان آئے تھے۔اور چند ماہ قیام کر کے ۱۹۰۳ء میں وطن کے لئے واپس ہوئے تھے۔امور متذکرہ بالا سے ثابت ہوا کہ کم از کم دسمبر ۱۹۰۲ء یا آغاز جنوری ۱۹۰۳ء میں مکرم شیخ صاحب کی بیعت ہوئی ہوگی۔کیونکہ بیعت کے بعد آٹھ دن آپ قادیان میں بھی رہے تھے۔آپ کا بیان یہی ہے کہ غالب ۱۹۰۲ء میں بیعت کی تھی اس معاملہ میں مجھے بہت غور کرنا پڑا۔اس لئے کہ شیخ صاحب بہت ضعیف ہو چکے ہیں اور فالج کے شدید حملہ میں مبتلا ہوکر قریب میں ایک حد تک صحت یاب ہوئے ہیں گو چل پھر سکتے ہیں مبادا کسی سہو ونسیان کا ان کی اس بات پر اثر نہ ہو۔لیکن الحمد للہ کہ پچیس سال قبل کا ان کا بیان مجھے مل گیا ہے جس سے مزید تائید ہوتی ہے جنوری ۱۹۳۵ء میں صحابہ قادیان کی فہرست عید کی خاطر تیار کی گئی تھی۔اس میں آپ کی بیعت و زیارت کا سال ۱۹۰۲ء ہی مرقوم ہے جو لازماً آپ سے دریافت کر کے ہی لکھا گیا ہوگا۔مکرم میاں اللہ بخش صاحب ( ولد محکم دین سکنہ ہر چووال ) درویش قادیان جنوری ۱۹۳۵ء والی فہرست کی تیاری کے موقع پر قادیان میں مہمان کے طور پر آئے ہوئے تھے۔ناظر ضیافت حضرت میر محمد الحق صاحب نے مہمانوں میں سے صحابہ کی بھی فہرست تیار کی۔اس میں میاں اللہ بخش صاحب نے اپنی بیعت ۱۹۰۵ء لکھوائی ہے اور ۱۹۴۲ء میں ( جبکہ آپ ناصر آباد قادیان میں مقیم تھے ) وصیت کرتے ہوئے اپنی بیعت ۱۹۰۳ لکھوائی ہے میاں اللہ بخش صاحب و شیخ رحمت اللہ صاحب ہر دو نے ایک دوسرے سے پہلے بیعت کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن تفصیل متذکرہ بالا سے یہ ظاہر ہے کہ شیخ رحمت اللہ صاحب کا اپنا بیان ثابت ہو جاتا ہے۔اور میاں اللہ بخش صاحب چونکہ ان پڑھ ہیں اس لئے ان کے اپنے