اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 186 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 186

186 ہوئے۔حضرت مسیح موعود نے آپ کا جنازہ غائب پڑھایا تھا۔ان کے لڑکے عبدالواحد صاحب اوور سیئر جہلم میں قیام رکھتے ہیں جن کی شادی امتہ اللہ صاحبہ دختر مستری دین محمد صاحب قادیانی مرحوم سے ہوئی تھی۔اور انہوں نے بتایا کہ احمدیت اور حضور علیہ السلام کا دعوی کیا ہے۔حضور علیہ السلام کا دعوی میرے لئے باعث تعجب تھا۔کیونکہ میں حیات مسیح کا قائل تھا۔میں نے حیات مسیح کے متعلق کچھ آیات پیش کیں جو انہوں نے فورا حل کر دیں۔اور میں ان کے دلائل سے اسی وقت وفات مسیح کا قائل ہو گیا۔ان کا انداز گفتگو اس قدر حلیمانہ اور پر خلوص تھا کہ ان کی ایک ایک بات میرے دل میں کا اُترتی چلی گئی۔میرے دریافت کرنے پر کہ وہ قادیان کب جائیں گے انہوں نے بتایا کہ وہ کل جمعہ وہیں پڑھیں گے۔تو میں نے کہا کہ مجھے بھی کل ساتھ لے چلیں۔چنانچہ ہم تینوں قادیان پہنچے اور مسجد مبارک میں گئے۔مئوذن نے اس قدر خوش الحانی سے اذان دی کہ گویا ایک وجد کا عالم طاری ہو گیا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے خطبہ دیا جو پر سوز تھا۔جس کا نماز میں بھی اثر قائم رہا۔حضور کوئی ڈیڑھ بجے مسجد میں تشریف لائے۔۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ غسل خانہ سے نکل کر آئے ہیں۔حضور کا انوار سے منور چہرہ دیکھ کر حضور کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔ایک دوست نے بعد جمعہ عرض کیا۔ایک شخص بیعت کے لئے حاضر ہے۔فرمایا۔عصر کے بعد۔چنانچہ عصر کے بعد جب حضور نے اپنے دست مبارک میں میرا ہاتھ لے کر الفاظ بیعت پڑھوائے تو اس کلمہ شہادت کے پڑھنے سے عجیب کیفیت پیدا ہوئی اور یوں محسوس ہوا گویا پہلی بار یہ کلمہ صحیح معنوں میں پڑھ رہا ہوں۔اور استغفار کے الفاظ حضور کے دل سے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔۔اور اس وقت بے ختیار میری چیخ نکل گئی۔بیعت کے وقت کا سرور اور حلاوت اس وقت تک دل کی گہرائیوں میں موجود ہے بعد بیعت میں نے ایک روپیہ نذرانہ پیش کر کے دعا کے لئے عرض کیا۔حضور نے نہایت شفقت اور پیار سے فرمایا۔آپ کے لئے دعا ضرور کی جائے گی۔غالبا ۱۹۰۲ء کی یہ بات ہے۔حضور کی شفقت کے اثر سے میں آٹھ دن قادیان میں ٹھہرا۔اس وقت میری عمر بائیس سال کی تھی۔اور ابھی ہیں دن پہلے میری شادی ہوئی تھی۔اور میں بزازی کی پھیری کا کام چھوڑ کر کر یا نہ کی دکان شروع کرنے والا تھا۔اور کریانہ کا سامان دکان میں رکھ چکا تھا۔اور دکان ابھی شروع نہیں کی تھی۔اور گھر میں میرا نتظار تھا۔والد صاحب نے چراغ محمد صاحب اور امام الدین صاحب سے دریافت کیا کہ ہمارا بچہ آپ کہاں چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آپ کے بچے پر بیعت کا ایک عجیب اثر ہوا ہے۔اور وہ قادیان ہی میں ہیں۔