اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 178 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 178

178 جلسه اعظم مذاہب دسمبر ۱۸۹۶ء میں منعقد ہوا۔سراج منیر ۱۸۹۷ء کی تصنیف ہے جس میں حضرت پیر صاحب موصوف کے تین مکتوبات بھی درج ہیں۔مولوی غلام رسول صاحب : محترم مولوی غلام حیدر صاحب کے صاحبزادہ مولوی غلام رسول صاحب کی عمر حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت تمیں برس کے قریب تھی۔ان کی تصویر نہیں کھچوائی گئی تھی۔آپ نے پرانے درس نظامی کے نصاب کے مطابق فارسی کی تکمیل کی ہوئی تھی۔صرف و نحو، تفسیر اور صحاح ستہ کی حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی اور مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی کی شاگردی میں تحمیل کی تھی۔قبول احمدیت و دیگر حالات:۔فرماتے تھے کہ ۱۸۹۴ء میں جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا۔اس وقت میں لاہور میں مولوی حافظ عبدالمنان صاحب سے ترمذی شریف پڑھتا تھا۔علماء کی پریشانی اور گھبراہٹ نے میرے دل پر اثر کیا۔گو علما ، لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے تھے۔مگر دل میں سخت خائف تھے کہ اس بچے نشان کی وجہ سے لوگوں کا بڑی تیزی سے حضرت اقدس کی طرف رجوع ہوگا۔ان دنوں حافظ محمد صاحب لکھو کے والے پتھری کا اپریشن کروانے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے۔میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان سے جب عوام نے دریافت کیا کہ یہ نشان آپ نے اپنی کتاب ”احوال الآخرہ میں واضح طور پر لکھا ہے۔اور مدعی ( حضرت مرزا صاحب) بھی موجود ہیں اور اس نشان کو اپنا مئوید قرار دے رہے ہیں۔آپ اس بارہ میں کیا مسلک اختیار فرماتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بیمار اور سخت کمزور ہوں صحت کی درستی کے بعد کچھ کہہ سکوں گا۔البتہ اپنے لڑ کے عبد الرحمن محی الدین کو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت سے روکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے راز عجیب ہوتے ہیں لیکن وہ زندہ نہ رہ سکے۔اور جلد ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔ان باتوں سے گو میرا دل حضرت اقدس کی سچائی کے بارہ میں مطمئن ہو چکا تھا۔لیکن علم حدیث کی تکمیل کی خاطر امرت سر چلا گیا۔اور وہاں دو تین سال رہ کر دورہ حدیث سے فراغت حاصل کر کے میں دارالامان میں حاضر ہو کر حضرت اقدس کی بیعت سے مشرف ہوا۔۱۹۴۳ء تک تا وفات قریباً بمر تہتر برس آپ جماعت کے سیکرٹری مال اور امام الصلوۃ رہے۔اور آپ نے جماعت کی تربیت کی۔آپ کی خدمات کے نتیجہ میں جماعت کی تعداد مع مردوزن اور اطفال پانچ صد کے قریب پہنچ گئی تھی۔آپ غیر موصی تھے۔اپنے گاؤں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔