اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 174 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 174

174 دعا ( البدر ۵/۳/۰۵ صفحه ۷ و بدر ۲۰/۸/۰۸ صفحه ۱۳ ) چنده بدر کی رسید (بدر ۲۹/۱۲/۰۵ صفحہ ۵ ) آپ کا خریداری نمبر ۶۳۲ مرقوم ہے۔حسن خاتمہ:۔آپ کو بالعموم سچی خوا ہیں آتی تھیں جو بعینہ پوری ہوتی تھیں۔وفات سے چند یوم پیشتر آپ اپنی بیٹی کی ملاقات کے لئے سرگودھا گئے۔اہلیہ محترمہ کی وفات سے آپ کی صحت پر بہت برا اثر پڑ چکا تھا۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی اہلیہ صحن میں چار پائی پر لیٹی ہوئی ہیں۔اور آپ باہر سے صحن میں داخل ہو کر ان کے پاؤں کی طرف لیٹ گئے۔تیسرے روز ۲۱ نومبر ۱۹۶۰ء کو گیارہ بجے دن آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔چنانچہ آپ کو قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ میں ایسی جگہ دفن کیا گیا کہ جو جگہ اہلیہ محترمہ کے پاؤں کی طرف ہے اس طرح یہ خواب گویا ظاہر احسن خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔کہ آپ اپنی اہلیہ صاحبہ کی جائے تدفین ( بہشتی مقبرہ) میں دفن ہوں گے۔زیادہ وضاحت کے ساتھ ظاہری نشان کے ساتھ پوری ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الْمُؤْمِنُ يَرَى وَيَرَى لَهُ (49)۔اللَّهُمَّ اغْفِرُ لَهُ وَارْحَمْهُ۔آمین۔میاں رمضان علی صاحب * ولادت و تعلیم :۔محترم میاں رمضان علی صاحب ولد میاں حسین صاحب قوم راجپوت کی تاریخ ولادت محفوظ نہیں۔۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ کی عمر انداز ا اکتالیس سال تھی۔آپ ابھی آٹھویں جماعت میں تعلیم پارہے تھے کہ آپ کے والد وفات پاگئے۔اس لئے باوجود یکہ آپ نے آٹھویں میں اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کی اور حساب کے مضمون میں انعامی کتب بھی حاصل کیں۔لیکن آپ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔اور دینی شغف میں لگ گئے اور فقراء کی صحبت اختیار کر لی اور لباس فقیری زیب تن کر کے تمام پنجاب۔سندھ اور سرحد و بلوچستان کا چکر لگایا۔اور بڑے بڑے مزاروں اور گدی نشینوں کے طور طریق کا بغور مطالعہ کیا۔قرآن شریف سے لگاؤ ابتداء ہی سے تھا۔لکھو کے مدرسہ دینیہ میں بھی تعلیم حاصل کی۔آپ قرآن شریف بڑی خوش الحانی سے پڑھتے تھے اپنی قرآت کی وجہ سے وہاں مشہور تھے۔وہاں بعض مخالف علماء سے حضرت مسیح موعود یہ سوانح بوساطت اخویم مولوی عبدالرحمن صاحب انور اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالی ) کی توجہ سے میاں رمضان علی صاحب کے فرزند خویم سعد اللہ خانصاحب ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ سے