اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 78 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 78

78 ہمارے پاس جو مولوی صاحبان آتے ان کے پاس ذکر کرنا شروع کر دیا۔ان دنوں ہماری مخالفت نہ تھی۔بعض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت تعریف کرتے (کہ) انہوں نے تو حید قائم کر دی ہے بعض یوں تعریف کرتے کہ انہوں نے آریوں اور عیسائیوں کو خوب لاجواب کر دیا ہے بعض نے مخالفوں کی کتابیں بھی ہمیں پڑھنے کو دیں۔چنانچہ تحفہ قادریہ جو مولوی عبدالعزیز لدھیانوی نے لکھی تھی۔اور ایک کتاب قاضی سلیمان پٹیالوی کی تصنیف جو ازالہ اوہام کے جواب میں لکھی گئی ہمیں پڑھنے کو دیں۔ان کتابوں کو پڑھ کر ہم خاموش سے ہو گئے۔استخارہ :۔پھر ہم نے نماز پڑھ کر دعا ئیں کرنا شروع کر دیں۔اس وقت میری عمر بائیس اور چوبیس سال کے درمیان ہوگی۔اور استخارہ کرنا شروع کیا کہ اللہ اگر یہ بندہ تیری طرف سے اور واقعی مسیح موعود اور مہدی ہے تو مجھے پر ظاہر کر۔چنانچہ ایک دن جبکہ بوقت دو پہر سویا ہوا تھا۔خواب میں میں نے آسمان پر موٹے اور سنہری خوشخط حروف میں مسیح موعود“ لکھا ہوا دیکھا۔میں نے پھر بھی دعا ئیں جاری رکھیں۔اور ایک رات خواب میں ایک مجمع دکھایا گیا کہ بہت سے لوگ اکٹھے بیٹھے ہیں۔سب کے لباس سفید براق ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے گویا فرشتے ہیں ایک شخص باہر سے آیا اس نے کہا یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے۔دوسرے نے پوچھا کیا دلیل ہے؟۔اس نے کہا کہ صدی پر مجدد ہوتا ہے اس صدی میں سوائے حضرت صاحب کے کسی نے مجدد ( ہونے ) کا دعوی نہیں کیا یہی دلیل ہے۔پوچھنے والے نے تصدیق کی کہ ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔جب میں خواب سے بیدار ہوا تو مجھے اس سچائی میں کوئی شبہ نہ رہا۔مگر میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرنا چاہتا تھا اس لئے بیعت نہ کی مگر چوہدری نجابت علی کرسی نشین نے بیعت کر لی۔اور ایک عورت نے بھی بیعت کر لی۔ہم اور لوگوں میں بھی ذکر کرتے رہتے۔جود بیندار ( شخص ) باہر سے آتا اس کے پاس بھی ذکر کرتے۔ان دنوں پلیگ ڈیوٹی پر ڈاکٹر محمدحسین شاہ صاحب اسسٹنٹ سرجن جو غیر مبائع ہو کر فوت ہو چکے ہیں ہمارے ہاں تشریف لائے۔میں نے ان کو دیندار دیکھ بقیہ حاشیہ صفحہ سابق :۔۱۹۳۵ء میں فوت ہوئے۔چوہدری محمد خاں صاحب کے اقارب میں سے تھے اور چوہدری صاحب نے ہی یہ تفصیل چوہدری احمد الدین خانصاحب کو بتائی ہے۔حمد یہ دونوں خواہیں قدرے مختلف الفاظ میں کتاب ” بشارات رحمانیہ صفحہ ۳۴ پر بھی مرقوم ہیں۔چوہدری احمد الدین صاحب بروایت چوہدری مہر خان صاحب لکھتے ہیں کہ یہ وہی چوہدری نجابت علی خانصاحب ہیں جن کا ذکر شجرہ میں آتا ہے ۱۹۰۲ء میں آپ نے بیعت کی اور متعدد بار حضور کی زیارت کی ۱۹۱۹ میں وفات پائی۔