ارضِ بلال

by Other Authors

Page 65 of 336

ارضِ بلال — Page 65

ارض بلال۔میری یادیں زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم دوسری مشکل یہ تھی کہ اس ملک کی زبان پر تگیزی تھی جس سے میں بالکل نابلد تھا۔خاکسارا گر چہ اللہ تعالی کے فضل سے نو زبانوں میں بات چیت کر سکتا ہے۔لیکن پرتگیزی زبان ان میں شامل نہ تھی ، اس لئے فکر پیدا ہوئی کہ اہل کیپ ورڈ سے رابطہ کیسے ممکن ہوگا۔کیونکہ کیپ ورڈ میں عام لوگ پرتگیزی زبان بولتے ہیں جو اس ملک کی سرکاری اور مادری زبان ہے۔پھر کر یول زبان بولتے ہیں۔یہ زبان بھی دراصل پرتگیزی زبان ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔دوسری زبانوں کے بولنے والے اس خطہ ارضی پر نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ہر انسان کسی بھی چیز کو اس کی افادیت اور اہمیت کی بنا پر ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح لوگ کسی بھی زبان کو اس کی مذھبی ، معاشی یا سیاسی دلچسپی اور ضرورت کے تحت ہی سیکھتے ہیں۔یہ ایک بہت ہی چھوٹا سا ملک ہے۔پھر بہت سے جزائر پر مشتمل ہے۔ان جزائر پر بسنے والوں کا آپس میں بھی رابطہ خاصا مشکل ہے۔یہ لوگ آپس میں بحری یا فضائی راستوں سے ہی مل سکتے ہیں۔دوسری عام دنیا کی طرح آمد ورفت کے لئے خشکی کے راستے بالکل نا پید ہیں۔بحری اور فضائی ذرائع سے ادھر آنا مالی اعتبار سے ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔اس زبان کے علاوہ شاذ ہی کوئی دوسری زبان بولتا ہوگا۔اس لئے زبان کے بارے میں خاصی فکر لاحق تھی۔ایک مبلغ سلسلہ کا دلچسپ لطیفہ مکرم حاجی ایا زحمد خان صاحب کو ہنگری میں بطور مبلغ بھیجا گیا۔اس وقت انہیں اس ملک کی زبان بالکل نہیں آتی تھی۔آپ بازار تشریف لے گئے۔ایک ریستوراں میں پہنچے۔آپ نے سوچا سردی بہت ہے، انڈا بہتر رہے گا۔اس دوران ایک بیرا حاضر ہوا اور آرڈر کے لئے پوچھا۔حاجی صاحب کو لوکل زبان میں انڈے کے نام کا علم نہ تھا۔آپ نے اپنے ہاتھ سے گول گول اشارے کر کے دکھائے۔بیرا گیا اور جلدی سے ابلے ہوئے آلو لے آیا۔حاجی صاحب نے منفی 65