ارضِ بلال — Page 126
ارض بلال- میری یادیں ) بمشکل ہمارے ہاں رات گزاری اور علی اصبح تشریف لے گئے۔اس واقعہ کو کئی سال بیت گئے ہیں پیر صاحب نے ہمارے گھر کا رخ نہیں کیا اور احمدیت کی برکت سے ہماری بہت سی گائیں بچ گئی ہیں۔مصائب و آلام سے بچنے کا ایک آزمودہ نسخہ گیمبیا میں ایک نوجوان مکرم سیڈ وسینگھائے بازار میں کپڑے کا معمولی سا کاروبار کرتے تھے۔ایک روز میں ان کے پاس کسی کام کے لئے گیا۔حال احوال کے بعد ان کے کاروبار کے بارے میں پوچھا۔کہنے لگے استاذ ! مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔میں ان کے جواب پر بڑا حیران ہوا اور پوچھا یہ کیسے ممکن ہے؟ کہنے لگے، مجھے جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے، میں اسی وقت مشن ہاؤس جا کر صدقہ ادا کر دیتا ہوں اور ساتھ ہی حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے خط لکھ دیتا ہوں اور میرا مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور کہنے لگے کہ میرا تجربہ ہے کہ جیسے ہی میں خط پوسٹ کرتا ہوں پھر وہ خط حضور تک پہنچے یا کسی وجہ سے نہ پہنچ پائے ، میری مشکل حل ہو جاتی ہے۔اس نوجوان کے مقام خلافت کے عرفان اور ایمان اور اعتقاد کو دیکھ کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی۔اس واقعہ کے جلد بعد امریکہ کے لئے اس کا ویزہ نکل آیا اور وہ امریکہ چلا گیا اور بفضلہ تعالیٰ امریکہ میں بھی جماعت کا ایک بہت مخلص کارکن ہے۔احمدیت کی برکت سے باعمل مسلمان بن گئے سینیگال میں ایک قصبہ نڈوفان ہے۔اس کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں چنڈیری ہے۔وہاں پر ایک پرانے احمدی دوست مکرم محمد فائو باہ صاحب رہتے ہیں۔جب میراسینیگال سے رابطہ ہوا ان دنوں یہ اپنے علاقہ میں اکیلے ہی احمدی تھے۔شروع سے ہی ان کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ان دنوں میری رہائش گیمبیا میں فرافینی کے مقام پر تھی۔اکثر اوقات یہ اپنے غیر از جماعت دوستوں کو تبلیغ کی غرض سے میرے پاس لے آتے۔بعض اوقات یہ لوگ میرے پاس رات بھی گزارتے اور 126