ارضِ بلال

by Other Authors

Page 108 of 336

ارضِ بلال — Page 108

ارض بلال۔میری یادیں اس دوران جب لوگوں نے ہماری گاڑی دیکھی تو وہاں آنا شروع ہو گئے۔گاؤں کے امام مکرم غوثو جالو صاحب بھی آگئے۔انہوں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں اس گاؤں کا امام ہوں۔پھر جوا با ہم نے بھی اپنا تعارف کرایا کہ ہم لوگ احمدی ہیں اور ادھر مکرم استاذ صاحب کو ملنے کیلئے آئے ہیں۔لیکن اتفاق سے استاذ صاحب گھر پر نہیں ملے۔امام صاحب کے آنے سے قدرے پریشانی ہوئی کیونکہ عام طور پر امام حضرات جماعت کی زیادہ مخالفت کرتے ہیں بلکہ تبلیغ کے راستہ میں روک بن جاتے ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ امام حضرات یعنی مولوی صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم احمدی ہو گئے تو عوام الناس ہمیں اس امامت سے ہٹا دیں گے۔اس طرح ذریعہ آمد بھی جاتا رہے گا اور ظاہری عزت وقار بھی۔دوسری طرف عوام الناس کو تبلیغ کی جائے تو وہ کہتے ہیں ہم چونکہ دینی علوم سے نابلد ہیں اس لئے ہمارے مولوی صاحب جو فیصلہ کریں گے وہی ہمارا فیصلہ ہو گا۔اس طرح بسا اوقات دونوں فریق ایک دوسرے کے خوف سے حق کی شناخت سے محروم رہ جاتے ہیں۔اگر جلسہ ،میٹنگ وغیرہ میں مولوی صاحب موجود ہوں تو پھر مولوی صاحبان فوراً دفاع پر اتر آتے ہیں اور دوسرے کی بات ماننا اپنی بے عزتی اور ہتک سمجھتے ہیں کہ اگر فور أمان لیا تو لوگ کیا کہیں گے۔اس لئے کج بحثی پر اتر آتے ہیں اور پھر جھوٹ کا سہارا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔اس لئے یہاں امام صاحب کی آمد سے یہ خوف پیدا ہوا کہ امام صاحب گاؤں والوں کو بھی ہماری بات سنے نہیں دیں گے۔اتنی دیر میں تقریباً 40 کے قریب لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔امام صاحب کہنے لگے، آپ ہمارے مہمان ہیں اور آپ نے بتایا ہے کہ آپ احمدیت کا پیغام لے کر ہمارے پاس آئے ہیں اس لئے آپ ہمیں وہ پیغام بتا ئیں۔میں نے اپنے ایک عربی بولنے والے معلم مکرم sali Jabi صاحب سے عرض کی کہ ان کے سامنے شرائط بیعت پڑھ کر سنا ئیں۔مکرم سالی صاحب نے عربی زبان میں بیعت فارم پڑھا اور بعض باتوں کی تشریح کی۔بعد ازاں کچھ دیر سوال وجواب کا 108