ارضِ بلال — Page 68
ارض بلال- میری یادیں ) والے سے بات چیت کرنے لگے اور ساتھ ہی ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔میں نے اُن سے انگریزی میں ان کا حال پوچھا تو انہوں نے انگلش میں مجھے جواب دیا۔مجھے کچھ ہمت ہوئی اور میں نے اپنی بپتا ان کے سامنے کہہ سنائی۔ان کو میری حالت زار پر رحم آیا اور ان میں سے ایک صاحب نے پانچ سکوڈ ونکال کر میرے ہاتھ میں تھما دیئے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا یہ سکوڈ وتو میرے صرف ایک مسئلہ کا حل ہے۔کہنے لگے اب کیا ہوا؟ میں نے بتایا میں اس شہر میں نو وارد ہوں۔مجھے کسی ایسی جگہ کا پتہ بتا ئیں جہاں میں شب بسری کرسکوں۔وہ نو جوان مجھ پر بڑے ہی مہربان تھے۔انہوں نے مجھے اپنے ساتھ اسی ٹیکسی میں بٹھا لیا اور پر ایا شہر کوروانہ ہو گئے اور شہر میں پہنچ کر مجھے ایک متوسط درجہ کے ہوٹل کے گیٹ پر اتار دیا۔میں نے خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ کم از کم کوئی چھت تو ملی ہے۔ہوٹل میں ریسیپشن پر جا کر کمرہ کے بارے میں معلومات لیں۔کمرہ کا کرایہ میری استطاعت سے بالا تھا۔مرتا کیا نہ کرتا ! کمرہ کی چابی لی اور سامان کمرہ میں رکھا۔کپڑے بدلے اور بازار کونکل گیا۔یہ ہوٹل بازار کے بالکل قریب تھا، اب بھوک بھی ستا رہی تھی۔اس ہوٹل میں کھانا کھانا تو میرے بس کی بات نہ تھی۔میرا بجٹ تو مجھے صرف چھوٹے ریستوران میں پیٹ بھرنے کی اجازت دے سکتا تھا۔اب بازار میں نکل تو گیا مگر نہ تو زبان آتی ہے نہ کھانوں کے نام آتے ہیں۔کافی دیر تک بازار میں گھومتا رہا۔قیام و طعام کا انتظام میں جب بازار کی طرف نکلا تو رستہ میں کئی چھوٹی بڑی گلیاں آئیں۔یہاں کے مکانوں کا انداز تعمیر ہم لوگوں سے کافی مختلف ہے۔ان کے ہاں جگہ کی قلت کے پیش نظر صحن کا کوئی خاص رواج نہیں اس لئے عموما کمروں کے دروازے گلیوں میں ہی کھول لیتے ہیں۔میں ان گلیوں میں سے گزر رہا تھا تو میں ایک مکان کے سامنے سے گزرا۔ایک بڑی عمر کی خاتون کھانا پکارہی تھی اور اس 68