ارضِ بلال

by Other Authors

Page 64 of 336

ارضِ بلال — Page 64

ارض بلال۔میری یادیں حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کا ارشاد جن دنوں میں گیمبیا کے شہر فرافینی میں بطور مربی سلسلہ خدمت دین پر متعین تھا ان دنوں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے از راہ شفقت خاکسار کو 1989 ء میں کیپ ورڈ جانے کے لئے ارشاد فرمایا۔قرآنی ارشاد سمعنا واطعنا کے مطابق اس سفر کی تیاری شروع کر دی۔کیپ ورڈ کا پہلا سفر اور تائید الہی کے نظارے یہ ایک بہت ہی غیر معروف ملک ہے۔اس ملک کو دنیا کے نقشے میں تلاش کرنا بھی خاصا دشوار ہے۔اسی وجہ سے اس ملک کے بارے میں بنیادی معلومات کا حصول بھی قدرے مشکل تھا۔آجکل تو انٹرنیٹ نے ایسے بہت سے مشکل مراحل کو بہت ہی آسان کر دیا ہے۔اس ملک کی مذہبی ،سیاسی اور معاشی صورت حال اور کیفیت سے میں بالکل لاعلم تھا۔میں اس کے شہروں، قصبوں، گلیوں کوچوں اور اس کے باسیوں کے متعلق اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے ذہن میں خاکے بنا تا اور مٹا تا رہا۔اسی ادھیڑ بن میں کافی وقت گزر گیا۔اس ملک کے بارے میں میں نے کبھی سنا تک نہ تھا اس لئے وہاں پر کسی شخص کے ساتھ شناسائی کیسے ہو پاتی۔ملک بھر میں کوئی ایک احمدی بھائی بھی نہ تھا۔اس لئے نہ کوئی جماعتی رشتہ اور نہ ذاتی تعارف تھا۔اب سوال یہ تھا کہ کیپ ورڈ میں کہاں جاؤں، کس کے پاس جاؤں؟ کیسے جاؤں؟ گیمبیا میں تو اس ملک کا سفارت خانہ بھی نہ تھا ورنہ ایمبیسی سے ہی کچھ معلومات حاصل کر لیتا۔اس ملک کی ایمبیسی سینیگال میں تھی۔اس لئے ویزا بھی سینیگال سے ہی لینا تھا۔اس مقصد کے پیش نظر سینیگال گیا۔ایمبیسی میں جا کر کیپ ورڈ کا ویزہ حاصل کیا۔ایمبیسی سے اپنی نادیدہ منزل کے بارے میں کچھ معلوماتی پمفلٹ لئے۔اگر چہ یہ زیادہ تر پرتگیزی زبان میں تھے۔پرتگیزی سے میں نابلد تھا۔چند ایک کتابچے فرانسیسی میں تھے جنہوں نے کسی حد تک میری دستگیری کی اور ملک کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کیں۔64