ارضِ بلال

by Other Authors

Page 33 of 336

ارضِ بلال — Page 33

ارض بلال۔میری یادیں ) منشاء کے عین مطابق ، فرشتوں کے پروں پر ہی سوار ہو کر ادھر آ سکتا ہے۔اب جماعت احمدیہ کی گیمبیا میں ورود مسعود کی داستان پیش خدمت ہے۔فیصلہ منصف مزاج قاری از خود کر سکتا ہے۔احمدیت کا پیغام گیمبیا کی ایک لڑکی اعلی تعلیم کے لیے سیرالیون گئی۔وہاں اسے کسی دکان پر اسلامی نماز کی ایک کتاب ملی جس میں عربی زبان کے ساتھ انگریزی میں ترجمہ اور ٹرانسلٹریشن بھی تھی۔اس لڑکی نے اپنے ملک میں کبھی ایسی کتاب نہ دیکھی تھی۔اس نے وہ کتاب خرید لی اور گیمبیا میں اپنے ایک عزیز کو بجھوادی۔یہ کتاب صدر انجمن احمد یہ قادیان کی شائع شدہ تھی۔ایک نوجوان مسٹر بارہ انجائے ( Bara Injoy) نے قادیان جماعت سے رابطہ کیا اور مزید دینی کتب کیلئے درخواست کی۔اسے جماعت نے مزید کتب ارسال کیں اور بتایا کہ آپ کے علاقہ نائیجیریا میں ہمارا مشن ہے۔وہاں رابطہ کر کے مزید لٹریچر اور معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اس زمانہ میں مکرم نور محمد نسیم سیفی صاحب نائیجیریا کے مشنری انچارج تھے۔سب سے پہلے نائیجیریا سے ایک معلم مکرم حمزہ سنی الوصاحب گیمبیا تشریف لائے اور تقریباً ایک سال تک بانجول میں تبلیغ کرتے رہے۔ان کے بعد گھانا جماعت کی طرف سے ایک لوکل معلم مکرم سعید جبریل صاحب ( والد محترم مرحوم احمد جبریل سعید نائب امیر جماعت احمد یہ گھانا ) چند ماہ کے لیے تشریف لائے۔اس زمانہ میں چونکہ گیمبیا میں باقاعدگی سے جماعت قائم نہ ہوئی تھی اس لئے مکرم سعید صاحب اپنی گلے میں ایک بیگ ڈالے رکھتے تھے جس پر احمدیت لکھا ہوا تھا اور اس طرح گھوم پھر کر لوگوں کو مختلف طریقوں سے اپنی طرف متوجہ کر کے احمدیت کا پیغام پہنچاتے رہتے۔اس طرح کافی لوگ بانجول اور اس کے مضافات میں جماعت کے نام سے شناسا ہو گئے اور کچھ لوگ جماعت کے کافی قریب بھی آگئے۔اور پڑھے لکھے نو جوانوں کا مرکز احمدیت قادیان کے ساتھ بذریعہ خط و کتابت اچھا خاصہ رابطہ قائم ہو گیا اور وہاں سے اخبارات ورسائل بھی با قاعدگی 33