ارضِ بلال

by Other Authors

Page 307 of 336

ارضِ بلال — Page 307

ارض بلال۔میری یادیں ) کی ضرورت ہو تو وہ بخوشی حاضر ہیں۔ملاقات کے بعد خاکسار واپس اپنے گھر آ گیا۔ایک دفعہ میں نے وزیر موصوف کو گیمبیا فون کیا۔علیک سلیک کے بعد میں نے انہیں کہا کہ میں ایک گیمبین شہری ہوں۔آجکل میری فیملی پاکستان میں ہے اور ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹس ہیں۔مجھے ان کے لئے گیمبیا کے ویزہ کی ضرورت ہے تا کہ وہ میرے پاس آسکیں۔وزیر صاحب نے کہا کہ آپ جب بھی چاہیں میرے دفتر میں آجائیں۔میں اسی روز آپ کی فیملی کے لئے ویزے کا انتظام کر دوں گا۔اس بات چیت کے چند روز بعد میں گیمبیا کوروانہ ہو گیا۔مکرم وزیر موصوف کے دفتر پہنچا۔وزیر صاحب بڑے تپاک سے ملے۔اسی دوران انہوں نے اپنے سیکرٹری کو بلا یا اور میری طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ان کا کام فوری کرنا ہے۔جب تک ان کا کام مکمل نہ ہوگا یہ میرے دفتر میں ہی رہیں گے۔اس تاکیدی حکم کے بعد سیکرٹری صاحب نے کمال پھرتی سے میری فیملی کے ویزے تیار کر کے خاکسار کو دے دیئے۔عام حالات میں اس کام کے لیے کئی مہینے درکار ہوتے ہیں۔فجز اھم اللہ۔میں نے کاغذات لئے اور واپس سینیگال کا رخ کیا۔حضور انور کی خدمت میں ویزے ملنے کی تفصیل عرض کر دی۔حضور نے فرمایا کہ اب فیملی کو اپنے پاس بلا لیں۔میں اب سینیگال میں شفٹ ہو چکا تھا۔سینیگال کا پاکستانیوں کے لئے ویزہ ملنا ایسا ہی مشکل اور دشوار ہے جیسے کسی غریب قوم کے لئے امریکہ کا ویزہ۔اس لئے میری فیملی کے لئے سینیگال کا ویزہ ملنا بظاہر نا ممکنات میں سے تھا۔اس لئے اب نئی پریشانی شروع ہوگئی کہ اگر فیملی ادھر آتی ہے اور وہ گیمبیا میں رہتی ہے۔گیمبیا میں کوئی بھی پاکستانی احمدی فیملی نہیں ہے اور میں سینیگال میں ہوں گا تو پھر بچوں کی دیکھ بھال، بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیگر بہت سے مسائل ہیں، جن کے لئے میرا فیملی کے ساتھ رہنا بہت ضروری تھا۔اس سلسلہ میں خاصی پریشانی تھی۔سینیگال میں فیملی کے پاس ویزہ نہ ہونے کے باعث وہ ادھر نہیں رہ سکتی تھی اور میں اپنے مفوضہ فرائض کی وجہ سے گیمبیا میں نہیں رہ سکتا تھا۔307