ارضِ بلال — Page 304
ارض بلال- میری یادیں یہ خط اس ادارہ سے ہے جو قتل اور دہشت گردی کے امور سے متعلق ہے۔اس لئے کوئی امر خاصا تشویش ناک ہے۔میں نے انہیں کہا اگر آپ کا کوئی شناسا اس ادارہ میں ہو تو اس سے کچھ معلومات تو حاصل کریں تا کہ اس کے مطابق کوئی انتظام کیا جائے۔میں نے فوری طور پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” کی خدمت میں فیکس بھجوا دی۔جس میں ساری تفصیل اور خدشات تحریر کیسے اور دعا کی عاجزانہ درخواست بھی کی۔میں نے اپنے ساتھی معلمین کو کسی بھی ناخوشگوار حادثہ یا صورت حال سے نمٹنے کے لئے ضروری باتیں عرض کر دیں۔میں نے اپنی فیملی کو اس صورت حال سے آگاہ نہیں کیا تا کہ وہ زیادہ پریشان نہ ہوں۔خود بھی دعا کی اور حضور انور کی خدمت میں بھی درخواست دُعا کر دی۔حسب ہدایت مقررہ وقت پر پولیس ہیڈ کواٹرز میں پہنچ کر متعلقہ دفتر پہنچا۔معلوم ہوا کہ انچارج انسپکٹر صاحب مصروف ہیں، باہر گیلری میں انتظار کریں۔یہ میری زندگی کا پہلا موقعہ تھا کہ پولیس کے حکم کے تحت تھانہ میں حاضر ہوا تھا پھر وہ بھی پردیس میں۔مزید برآں سینیگال میں جماعت کے لئے کام کر رہا تھا جبکہ جماعت کی رجسٹریشن نہ تھی۔پھر میری فیملی بھی بغیر ویزہ کے ادھر مقیم تھی۔اب ایسی کیفیت میں میرے دل و دماغ کی جو صورت حال ہوگی اس کا اندازہ آپ بھی کر سکتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سپاہی نے مجھے دفتر کے اندر آنے کے لئے اشارہ کیا۔میں دھڑکتے دل اور دعاؤں کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھا۔جیسے میں دفتر میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ ایک پولیس آفیسر ایک کرسی پر براجمان ہے اور اس کے علاوہ ایک عورت اور ایک مرد بھی اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔پولیس آفیسر مجھے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھے بڑے تپاک سے گلے ملا۔دراصل یہ پولیس انسپکٹر گیمبیا اور سینیگال کے بارڈر پر بطور انچارج متعین تھا۔میری رہائش بھی اس بارڈر کے بالکل قریب گیمبیا میں فرافینی کے مقام پر تھی۔یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔یہاں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے 304