ارضِ بلال — Page 296
ارض بلال۔میری یادیں ان دنوں بہت سے احمدی ممبران اسمبلی ڈاکار میں موجود تھے۔انہوں نے بچی کا عقیقہ بھی کیا۔ایک احمدی ممبر اسمبلی حو ا جوب کے نام پر سینیگال کی روایت کے مطابق بچی کا نام حوا رکھ دیا اور ایک بکر ابھی ذبح کیا۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کی بیگم صاحبہ نے انہیں بتایا کہ پہلے دن جب سیر کرتے ہوئے ہم لوگ اس ہسپتال کے سامنے سے گزرے تھے تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ کاش میرا بچہ اس ہسپتال میں پیدا ہو۔پھر اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ ان کی خواہش کے مطابق بچی کی ولادت اسی ہسپتال میں ہوئی۔مرکز سے گرانٹ کی آمد سے قبل مرکز کے اکاؤنٹ میں رقم ڈاکٹر سعید احمد صاحب سے نہ تو کبھی ملنے کا اتفاق ہوا اور نہ ہی کبھی ان کے بارہ کچھ پڑھنے کو ملا۔بہر حال گیمبیا میں انکی نیک نامی اور بہترین کارکردگی کے حوالے سے بہت کچھ سننے میں آیا۔اس حوالے سے چند ایمان افروز باتیں پیش خدمت ہیں۔یہ بزرگ ڈاکٹر جماعت احمدیہ کی طبی خدمات کے میدان میں پیشرو تھے۔جن دنوں میں میں فرافینی میں تھا میں نے دیکھا کہ فرافینی کے احباب جماعت مکرم ڈاکٹر سعید احمد صاحب کا نام بڑے احترام اور پیار سے لیا کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب ہفتہ میں ایک بار اس شہر میں بھی کلینک کرتے تھے۔یہاں پر ایک احمدی دوست مکرم شیخو د بیبا صاحب نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈاکٹر سعید رکھا ہوا ہے۔اس حوالے سے ان کا نام آج بھی فرامینی کی فضا میں گونجتا رہتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مبارک دور میں تحریک جدید کے تحت پروگرام ترتیب دیا گیا کہ افریقہ میں تعلیم اور صحت کے میدان میں ڈاکٹر اور ٹیچر بھیجے جائیں۔اس الہی ندا پر بہت سی سعید روحوں نے فوری طور پر لبیک کہا اور دربار خلافت میں حاضر ہو گئے۔اس سعید فطرت گروہ میں ایک ڈاکٹر سعید احمد صاحب بھی تھے۔سنا ہے مکرم ڈاکٹر صاحب ان 296