ارضِ بلال

by Other Authors

Page 290 of 336

ارضِ بلال — Page 290

ارض بلال۔میری یادیں تھے۔اتنے میں میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو شکل سے احمدی لگ رہا تھا۔کیونکہ اس نے جناح کیپ پہنی ہوئی تھی۔میں نے اس کو سلام کیا۔میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ احمدی ہے اور گیسٹ ہاؤس سے ایک دوست کو لینے کیلئے آیا ہوا ہے۔مگر وہ دوست نہیں آئے۔میں نے بتایا کہ میں بھی جماعت کا مہمان ہوں اور میرا یہ نام ہے۔وہ کہنے لگا چند یوم قبل آپ کو لینے کیلئے ہم لوگ آئے تھے۔مگر آپ کی آمد نہ ہوئی اور ہم خالی ہاتھ واپس چلے گئے تھے۔الحمد للہ آپ سے ملاقات ہوگئی۔آئیے اب آپ کو گیسٹ ہاؤس لئے چلتے ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک غیر متوقع آسمانی ضیافت نصیب ہوئی۔”نہ جانے اس کریم کو تو ہے یادہ پسند ایک احمدی معمار کی خدمت دین حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے گیمبیا میں مرکزی مسجد تعمیر کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس غرض سے مکرم چوہدری عبدالعزیز ڈوگر صاحب کی قیادت میں دو کاریگر بھی گیمبیا بھجوا دیئے۔ان میں سے ایک دوست مکرم مختار احمد صاحب تھے جو لکڑی کا کام کرتے تھے اور دوسرے مکرم عبدالحمید چھینہ صاحب جو تعمیرات کے لئے تھے۔مکرم امیر صاحب نے انہیں مختلف اداروں میں مرمت اور بیت السلام کی تعمیر کا کام تفویض کر دیا جو انہوں نے بڑی ہمت اور دلجمعی سے سرانجام دیا۔بیت السلام کی عمارت ایک ہال نما عمارت بن گئی۔ایک دفعہ مجھے ایک غیر احمدی دوست ملے۔انہیں میں نے اپنی نئی مسجد کے بارہ میں بتایا۔کہنے لگے کہ وہ جو چرچ کی طرح بنی ہے۔دراصل یہ ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں مینار وغیرہ نہیں تھے گیمبیا میں مینار بنانے والے ماہرین نہ ہونے کے برابر ہیں،اس لئے مینار نہ بنائے جاسکے۔ایک دن چند دوست مسجد میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اگر مسجد کے مینار بن جائیں تو تب ہی یہ مسجد کے طور پر نظر آئے گی۔مکرم عبد الحمید چھینہ صاحب بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔کہنے 290