ارضِ بلال

by Other Authors

Page 27 of 336

ارضِ بلال — Page 27

ارض بلال۔میری یادیں اس دریا کی لمبائی گیارہ سو تیس کلومیٹر ( سات سو میل) ہے۔میہ دریا ایک قریبی ملک گنی کوناکری کے بالائی حصہ کے پہاڑوں فوٹا جالونگ سے ایک نالے کی طرح اپنا سفر شروع کرتا ہے۔پھر سینیگال میں سے گزرتا ہوا تانبا کنڈا کے قریب گیمبیا میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر پورے گیمبیا کے درمیان سے بہتا ہوا تقریبا پانچ سوکلومیٹر کا طویل اور کٹھن سفر طے کر کے بانجول کے قریب بحر اوقیانوس میں جا گرتا ہے۔با نجول سے Kaur تک اس دریا کا پانی نمکین ہے اور زراعت کے قابل نہیں ہے۔بانجول سے کا عور تک دریا کا پانی کبھی سمندر کی طرف کومحو سفر ہوتا ہے اور کبھی چاندنی راتوں میں سمندر سے دریا کے بالائی حصہ کی طرف چل رہا ہوتا ہے۔دراصل یہ سب سمندر میں مدوجزر کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔فیری کا سفر جب میں گیمبیا پہنچا ان دنوں بانجول سے بصے تک ایک فیری لیڈی رائٹ چلتی تھی جس میں لوگ اپنے مال ومتاع کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ان دنوں سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں اگر تھیں تو اسقدر ٹوٹی پھوٹی تھیں کہ ان پر سفر کرنا محال تھا۔پہلے مبلغ جماعت مکرم مولانا محمد شریف صاحب نے بھی اسی فیری کے ذریعہ ملک کی بعض جماعتوں کا دورہ کیا تھا۔Basse پہنچ کر آپ نے فیری میں چند دن قیام کیا تھا۔میں نے بھی ایک دفعہ بصے سے Goerge Town تک اس میں ایک سفر کیا تھا۔غالباً اسی سال فیری فرافینی کے قریب دریا میں ڈوب گئی۔اس زمانہ میں ہمارے خطوط بھی فیری کے ذریعہ ہی آتے جاتے تھے۔اس لیے فیری میں ہماری بہت سی ڈاک بھی ڈوب گئی۔اس کے بعد اندرون ملک گیمبیا میں فیری کا نظام ختم ہو گیا۔27