ارضِ بلال — Page 279
ارض بلال- میری یادیں ) سوچا کہ گاڑی چل پڑے گی اور ہمیں اس مصیبت سے نجات مل جائے گی۔جب گاڑی کو سٹارٹ کیا۔تو گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ دیر تک لائٹ آن رہنے کی وجہ سے کار کی بیٹری ختم ہوگئی تھی۔اب نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔اب ہم تینوں دوست بھوک اور پیاس اور تھکاوٹ سے نڈھال ہو چکے تھے۔ہر طرف جنگل ہی جنگل ،اس پر اندھیرے کا راج، جانوروں کی آوازیں عجیب سماں پیدا کر رہی تھیں۔آخر کار ہم لوگ کار میں ہی سونے کی کوشش کرنے لگے۔اگر کار کے دروازے بند کرتے ہیں تو کار کے اندر سخت گرمی اور حبس ہو جاتا تھا۔اگر دروازے کھولتے تو مچھر اور دیگر کیڑے مکوڑے آجاتے تھے۔بہر حال رات بھر سوتے جاگتے رہے۔کھانا بھی نہ کھایا تھا۔بھوک نے بھی بہت ستایا ہوا تھا۔پیاس سے بھی لب خشک ہو چکے تھے سکون خاطر کی خاطر نماز فجر کے قریب مجھے ایک جانب سے ٹیوب ویل کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں اس آواز کی جانب چل پڑا۔ہر طرف باجرے کے کھیت ہی کھیت تھے۔ان میں سے گزرتا ہوا اس آواز کی طرف اندازہ سے چلتا رہا۔کافی دیر چلنے کے بعد مجھے ایک جگہ پر کچھ لوگ نظر آئے۔ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایک جرمن باشندہ نے جنگل میں ایک وسیع و عریض زرعی فارم بنارکھا ہے۔میں اس یوروپین باشندے کو اس جنگل میں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔میں نے اس سے پوچھا آپ نے یورپ کو چھوڑ کر اس ویرانے میں کیوں ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔کہنے لگا کہ میرا تعلق جرمنی سے ہے۔یورپ کی مشینی زندگی سے تنگ آ گیا ہوں اس لئے میں سکون خاطر کے لئے اس جنگل میں آبسا ہوں۔میں نے اسے اپنی رات بھر کی داستان غم سنائی اور اس سے معاونت کی درخواست کی۔اس نے فوری طور پر اپنے چند کارکنان کو میرے ہمراہ کر دیا اور مجھے نصیحت کی کہ جب گاڑی سٹارٹ ہو جائے تو پھر آپ نے گاڑی کہیں بھی نہیں روکنی بلکہ سید ھے کیر یوان کے فیری ٹرمینل پر جانا ہے اور وہاں جاکر فیری والوں سے بیٹری چارج کروالینی ہے۔اس کے کارندوں نے گاڑی کو کافی دیر 279