ارضِ بلال

by Other Authors

Page 278 of 336

ارضِ بلال — Page 278

ارض بلال۔میری یادیں السفر قطع من النار ایک دفعہ خاکسار دو معلمین مکرم احمد جالو اور ابراہیم درامے صاحب کے ہمراہ ایک تربیتی دورہ پر روانہ ہوا۔حسب پروگرام نماز مغرب ہم نے سالکینی جماعت میں ادا کی۔وہاں سے فارغ ہوکر نمازعشاء saba نامی جماعت میں ادا کرنے کا پروگرام تھا۔پھر وہاں پر میٹنگ کرنے کے بعدرات مکرم ڈاکٹر منور احمد صاحب کے پاس بسر کرنے کا ارادہ تھا۔سالکینی سے ہم لوگ اپنی کار پر روانہ ہوئے۔سڑک کچی تھی اور اس پر جابجا گڑ ھے تھے۔سالکینی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ سڑک کی حالت خاصی قابل رحم ہو چکی ہے جس کے باعث گاڑیاں سڑک سے ملحقہ کھیتوں میں سے گزرتی تھیں۔بڑی بس بھی اسی رستہ سے گزرتی تھی۔جس کی وجہ سے اس رستہ کی زمین بہت نرم ہوگئی تھی اور بس کے ضخیم ٹائروں کے باعث وہ جگہ خاصی گہری ہو چکی تھی۔مگر بظاہر ٹھیک نظر آتی تھی۔میں بھی جب اس جگہ پہنچا، میں بھی اپنی گاڑی اس بس کے ٹریک پر ہی لے گیا۔ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ہماری کار نے آگے جانے سے انکار کر دیا۔نیچے اترے تو دیکھا کہ کار کی باڈی توسطح زمین کو چھورہی ہے اور جس قدر ایکسلیٹر دباتے ہیں گاڑی اور زمین میں دھنستی جارہی ہے۔اب رات کا وقت تھا۔ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا۔اس وقت کسی راہ گزر کے ادھر سے گزرنے کا احتمال بھی نہیں تھا۔میرے ساتھی معلمین نے حسب توفیق گاڑی کو کافی دھکے لگائے۔اس دھکم پیل کی وجہ کار آگے کی بجائے اور نیچے کی طرف ہی جاتی۔ہر کوشش بے سود اور رائیگاں ہوئی۔اس تگ و دو میں کافی دیر ہو گئی۔میں اپنی کار میں ہمیشہ ایک بڑا سا کٹلس ( لمبے مونہہ والا کلہاڑا نما آلہ) رکھتا تھا جو حسب ضرورت سفروں میں بہت کام آتا تھا۔اسے نکالا اور جنگل سے جھاڑیاں اور درختوں کی شاخیں کاٹ کر لانا شروع کیں اور پھر بڑی مشکل سے کار کی ایک سائڈ کو اٹھاتے اور اس کے ٹائروں کے نیچے وہ کٹی ہوئی جھاڑیاں بچھا دیتے۔اس طرح بقیہ سارے رستہ پر بھی جھاڑیاں ڈالیں تا کہ گاڑی یہاں سے نکلنے کے بعد کہیں آگے جا کر دوبارہ نہ پھنس جائے۔اب 278