ارضِ بلال — Page 277
ارض بلال- میری یادیں ) گاؤں ڈانفا کنڈا کے رہنے والے ہیں۔ان کے والد صاحب نہایت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے۔اس نوجوان کو میں نے بچپن میں دیکھا۔یہ اپنے والد صاحب کے ہمراہ نماز جمعہ کے لئے اپنے گاؤں سے بصے شہر کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے آیا کرتا تھا۔شروع سے ہی بہت نیک اور سعید فطرت بچہ تھا۔ایک بارا ابراہیم میرے پاس آیا۔ان دنوں یہ پرائمری سکول کا طالب علم تھا اور کہنے لگا۔استاذ میں نے انگلش ترجمہ قرآن پاک لینا ہے۔میں نے اس کی بچپن کی عمر اور پھر تعلیم کے پیش نظر اسے کہا کہ بھئی وہ تو ہم فروخت کرتے ہیں۔آپ کے پاس پیسے ہیں۔اس پر اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب سے پانچ ڈلاسی کا نوٹ نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔میں اس کا شوق اور اخلاص دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اس پر میں نے اسے قرآن پاک کا ایک نسخہ تحفہ میں دے دیا جو ایک لمبا عرصہ تک اس نے سنبھال کر رکھا۔پھر یہ نوجوان ناصر ہائی سکول میں داخل ہو گیا۔ان کی تعلیم کے سلسلہ میں سکول اور جماعت کی جانب سے بھی خدمت کی توفیق ملی اور آج انہیں ایک بہت بڑے ادارہ یعنی مسرور ہائی سکول کا سر براہ دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔آمین سیر یمنی کی تقریبات ابتدا میں بصے علاقہ کے لوگ جماعت احمدیہ کے بارے میں علماء اور عربی اساتذہ کے مسموم پراپیگنڈہ کی وجہ سے کافی خائف اور محتاط نظر آتے تھے۔ہم لوگوں نے شروع سے ہی محکمہ تعلیم کے منظور شدہ کورس کے علاوہ قاعدہ لیسرنا القرآن بھی پڑھانا شروع کر دیا۔پھر اس قاعدہ کی کی تکمیل پر قرآن پاک ناظرہ بھی سب طلبہ کو پڑھا دیا۔اس کے بعد سال کے آخر میں جب سکول میں تقسیم انعامات کی تقریب منائی گئی۔اس تقریب کو ہم نے آمین سیر یمنی کا نام دے دیا۔پھر اس موقعہ پر مختلف طلبہ نے قرآن کریم کی مختلف سورتیں پڑھ کر سنائیں اور پھر دینی معلومات کے بارے میں طلبہ نے ایک دلچسپ کو ئیز پروگرام بھی پیش کیا۔جس کی وجہ سے سب حاضرین کرام پر بہت خوشگوار اثر ہوا۔277