ارضِ بلال — Page 273
ارض بلال- میری یادیں ) اوقات میں کبھی کبھار، اپنے ماضی کے تلخ وشیر میں واقعات کی جگالی کرتا رہتا ہے اور ان حالات کے مطابق روحانی اذیت یا فرحت پاتا ہے۔ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول بصے اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا“ چند سال قبل خاکسار سینیگال کے علاقہ کا سانس کے دورہ سے واپس آرہا تھا۔واپسی پر گیمبیا کے شہر بھے سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔رات مکرم پرنسپل صاحب کے دولت کدہ پر بسر کی۔اگلے روز ناصر احمد یہ مسلم ہائی سکول دیکھنے چلا گیا۔سکول کی وسیع وعریض بلڈنگ ،جس میں میرے خیال میں کم از کم چھوٹے بڑے چالیس سے زائد کمرے ہوں گے اور سائنس لیبارٹریز اور موجودہ دور کی جملہ ضروریات کے مطابق مناسب سہولتیں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔پھر اچانک میری نگاہوں کے سامنے اس سکول کے ابتدائی سفر ایک فلم کی طرح میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔خاکسار 1983ء میں گیمبیا پہنچا تھا۔ان دنوں بصے ہائی سکول کے لئے سیمنٹ کے بلاکس بن رہے تھے۔اس کام کی نگرانی مکرم عمر سونکو صاحب کر رہے تھے۔آپ محکمہ زراعت کے آفیسر تھے۔سونکو صاحب بہت نیک اور مخلص احمدی دوست ہیں۔انہی دنوں میں بھی بصے آگیا اور پھر مکرم امیر صاحب نے اس سکول کی تعمیر کا کام میرے سپرد کر دیا جس پر پہلا بلاک مجھے بنانے کی توفیق ملی۔الحمد للہ۔یہ بلڈنگ بنیادی طور پر دو کلاس رومز پر مشتمل تھی۔چونکہ پہلے سال سکول میں داخل ہونے والے طلبہ زیادہ تھے۔اس لئے انہیں دو گروپس میں تقسیم کر دیا گیا۔جو ان دونوں کلاس رومز میں سما گئے۔اس کے علاوہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کر لیتے تھے اور اس بڑے ہال نما کمرے کے اندر ہی دو چھوٹے چھوٹے سے کمرے تھے ان میں سے ایک کمرے میں تو مکرم پرنسپل صاحب کا دفتر اور دوسرا کمرہ بطور سٹور بنالیا گیا۔273