ارضِ بلال

by Other Authors

Page 272 of 336

ارضِ بلال — Page 272

ارض بلال- میری یادیں ) اور ہوش ربا عجائبات کو دیکھتا ہے۔پھر رجل رشید بے اختیار اس نظام بے بدل کے خالق و مالک کی عظمت و جبروت کے گیت گاتا ہے۔ہماری یہ ظاہری آنکھ صرف اسی چیز تک ہمیں لے جاسکتی ہے جو ظاہری لحاظ سے اس کی طاقت اور رسائی میں ہے۔اس آنکھ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور آنکھ سے بھی نواز رکھا ہے۔جسے ہم چشم تصور کہتے ہیں۔یہ بھی ہمارے خدا کی ایک عجیب و غریب نعمت ہے۔چند سال پہلے کی بات ہے کہ خاکسار کے دل کا آپریشن ہوا۔اسپتال کی انتظامیہ آپریشن کے بعد مریضوں کو اپنی نگرانی میں ضروری علاج کے علاوہ کچھ عرصہ کے لئے بعض جسمانی ورزشیں بھی کراتی ہے۔ان میں سے ایک ورزش یہ ہے کہ سب مریضوں کو زمین پر لٹا دیا جاتا ہے۔پھر انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ سب لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیں جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیں۔اب آپ چشم تصور میں کسی تصوراتی خوبصورت باغ یا کسی اور خوبصورت مقام کا نقشہ ذہن میں لائیں۔پھر اس کے خوبصورت مناظر، بلند و بالاسر سبز اشجار، رنگ برنگے خوشبو دار پھولوں کی ان گنت قسمیں، رقص کرتی آبشاریں، پرندوں کے دلکش نغمے اور معصوم بچوں کی مسرت بھری شرارتوں کو چشم تصور میں مشاہدہ کریں۔کچھ دیر بعد آپ اپنے اندر عجیب سی فرحت اور تازگی محسوس کریں گے۔دراصل بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہم کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے۔ان کو دیکھنے کے لئے آپ کو اپنی ظاہری آنکھیں بند کرنی پڑتی ہیں۔اگر آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور چشم تصور میں دنیا کے کسی بھی دور دراز مقام تک چند لحات میں جا پہنچتے ہیں۔نہ صرف مقام پر بلکہ اپنی گزشتہ زندگی کی ہر ساعت کی کیفیت اس کا منظر اور پھر اس واقعہ سے متعلقہ سب لوگ آپ کی نگاہوں کے سامنے اسی زمانے کے مطابق آجاتے ہیں۔انسانی زندگی ایک تلخ وشیر میں سفر ہے جس کی راہ میں خوبصورت ، دلکش اور مسرت بھرے نظارے بھی ہیں اور اس راہ گزر میں خاردار جھاڑیاں اور نوکیلے پتھر بھی ہیں۔انسان اپنے فارغ 272