ارضِ بلال

by Other Authors

Page 246 of 336

ارضِ بلال — Page 246

شفقت و محبت کا بحر بیکراں ارض بلال۔میری یادیں غالباً 1995ء کی بات ہے۔حضور انور جلسہ سالانہ جرمنی میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔خاکسار کے والد محترم اور والدہ محترمہ نے ملاقات وزیارت کے لئے درخواست کی جو حضور انور نے از راہ شفقت قبول فرمائی۔میرے والدین حضور انور کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔حضور انور ان سے بہت پیار اور شفقت سے پیش آئے۔ملاقات کے آخر پر حضور انور نے فرمایا: آؤ فوٹو بنوالیں۔“ میری والدہ محترمہ کا جسم قدرے بھاری تھا۔جب انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی تو ہمارے پیارے شفیق آقا نے فرمایا کہ آپ لوگ کرسیوں پر ہی بیٹھے رہیں ، میں از خود آپ لوگوں کے پیچھے آکر کھڑا ہوتا ہوں۔یہ صورتحال والدین کیلئے عجیب تھی اور وہ اس پر سخت نروس اور پریشان ہو گئے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمارے آقا ہمارے پیچھے کھڑے ہوں اور ہم لوگ آگے کرسیوں پر بیٹھے ہوں۔اس لئے انہوں نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔جس پر حضور انور نے فرمایا کہ آپ لوگ بیٹھے رہیں اور اتنے میں حضور ان کے پیچھے آکر کھڑے ہو گئے اور اسی طرح فوٹو ہوگئی۔فوٹو کے بعد حضور انور نے میرے والدین کو فرمایا کہ اس فوٹو کی ایک کاپی ہمارے منور کو ضرور بھیجوانا۔سبحان اللہ کس کس شفقت اور پیار کا ذکر کیا جائے کہ ہمارے آقا اپنے غلاموں سے کس قدر پیار کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔یہ ان کی ہی شان تھی۔قبل از وقت خوشخبری حضور انور خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ 1988 ء کے اوائل میں گیمبیا کے دورہ پر تشریف لائے۔مانسا کونکو گیمبیا کا ایک ریجنل ہیڈ کوارٹر ہے۔اس جگہ گورنمنٹ کا ایک Rest House ہے وہاں پر حضور انور نے Basse نامی قصبہ سے 246