ارضِ بلال — Page 217
ارض بلال۔میری یادیں پیش کرتے اور قاضی حسب فہم فیصلہ کر دیتا۔ایک قصاب روزانہ اپنے کام سے فارغ ہو کر بڑی باقاعدگی کے ساتھ اس جگہ حاضر ہوتا اور ساری کاروائی بڑے غور سے سنتا اور اپنے دل و دماغ میں بچے اور جھوٹے کا فیصلہ کر لیتا۔ایک دن اس کے دوست نے اسے پوچھا۔تم ایک ان پڑھ آدمی ہو تم کس طرح فیصلہ کر سکتے ہو؟ اس نے کہا، بڑا آسان کام ہے۔جس آدمی کی تقریر کرتے ہوئے گردن کی رگیں پھولی ہوتی ہیں، میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔“ کچھ اسی طرح اس دیہاتی نے ہماری بحث سن کر احمدیت کے حق میں فیصلہ کر لیا۔استاذ احمد بیگے سوہ احمدی ہونا چاہتا ہے نڈوفان میں ایک عربی مدرس مکرم احمد بیگے سوہ صاحب تھے۔ان کے ایک ماموں مکرم النبی جالو صاحب احمدی تھے۔استاذ سے کئی دفعہ بات چیت ہوئی لیکن وہ احمدی نہ ہوئے۔اس طرح کافی سال بیت گئے۔ایک دفعہ انہوں نے ایک احمدی دوست کے ذریعہ مجھے پیغام بھجوایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔اتفاق سے ایک دفعہ میں ان کے علاقہ میں دورہ پر تھا۔میں ایک دوست کے ہمراہ ان کے گھر گیا اور انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر شہر سے باہر لے آیا۔ایک جگہ پر میں نے کارروک کر ان سے ملاقات کے مقصد کے بارے میں پوچھا۔کہنے لگا، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ حق پر ہے اس لئے میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔لیکن میری ایک شرط ہے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں میں ایک معروف عالمی مسلم تنظیم کے تحت کام کرتا ہوں۔جیسے ہی ان کو علم ہوگا میں احمدی ہو گیا ہوں مجھے کام سے فارغ کر دیں گے اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میرے پاس تدریس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔اس لئے مجھے اپنے ساتھ بطور معلم رکھ لیں۔میں نے ساری بات سن کر اسے بتایا کہ میرے خیال میں آپ احمدی نہیں ہو سکتے کیونکہ بیعت میں شرطیں تو نہیں ہوتیں۔جماعت احمد یہ تو شرک کے خلاف جنگ کر رہی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ مذکورہ تنظیم کا کام چھوڑ کر آپ 217